
یہ حقیقت ہے کہ جہاں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ عالمی سیاست اور جغرافیائی مفادات وابستہ ہیں وہیں افغانستان اس کہیں زیادہ پاکستان پرانحصارکرنے پر مجبور ہے۔
افغانستان پاکستان کے بغیر چل نہیں سکتا، پاکستان کے بغیر افغانستان کی معیشت کا پہیہ جام ہوکر رہ جائے گا، دوسری جانب بھارت اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے جیو پولیٹیکل پروفائل کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ پروفائل پاکستان کے لئے خطرات پیدا کئے بغیر بحال نہیں ہوسکتی تھی، اس وجہ سے ہندوستان نے افغان طالبان سے دوہرے فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی، ایک افغان طالبان کے ذریعے سے خطرات پیدا کرن، دوسرا اپنے جیو اکنامک انٹرسٹ کو بڑھانا تھا مگر دونوں محاذ پر انڈیا کامیاب نہیں ہوسکا کیوں کہ پاکستان نے ایران کو اپنے قریب کر لیا ہے اور بھارت کو مجبوراً ایرانی پورٹ سے انخلاء کرنا پڑا، چاہ بہار پورٹ سے انڈیاکا نقصان تو ہوا ہے لیکن افغانستان بڑی مشکل صورت حال سے دوچار ہوگیا ہے، افغانستان کو آکسیجن حاصل کرنے کے لیے دوبارہ پاکستان کی سمت آنا تھا لیکن اس بار پاکستان افغان طالبان کی حکومت کے ہوتے ہوئے اسے قبول کرنے کو تیارنہیں اور افغان طالبان کی لاکھ کوشش کے باوجود پاکستان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
اس ضمن میں پاکستان نے سب سے پہلے تاجکستان سے بات چیت کے ذریعے انڈیا سے بیس خالی کروایا جو افغان طالبان کو سپورٹ فراہم کر رہا تھا، دوسرا ایران کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرکے انڈیاکو چاہ بہار سے انخلاء پرمجبور کروایا، تیسرا افغان طالبان کے ساتھ کشیدگی کے دوران صرف سیکیورٹی تھریٹ بننے والے اسلحہ ڈپوکو فوکس کئے رکھا اوراسے تباہ کرنا شروع کیا، اس صورت حال میں افغان طالبان دفاعی پوزیشن میں چلے گئے اور افغانستان کی یہی صورت حال پاکستان کو سوٹ کرتی ہے، اس وجہ سے پاکستان افغانستان میں وہ حکومت چاہتا ہے جس کے تعلقات انڈیا کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ اچھے ہوں تاکہ پاکستان فرنٹ لائن پر نہ جاتے ہوئے فوکس صرف مشرقی بارڈ پرمرکوزکئے رکھے ۔
دوسری جانب افغان طالبان اپنی حکومت بچانے کے لیے سرگرم ہیں، اس سلسلے میں قریبی لوگوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، ملا عمر کے دور حکومت میں وزیر خزانہ اور اس افغان طالبان حکومت کے سینئر رہنما معتصم آغا جان کو طالبان انٹیلی جنس نے قندھار سے حراست میں لے لیا ہے۔ آغا جان کو 2001 سے طالبان تحریک میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے، یہ استنبول چلے گئے تھے، ان کو ملا یعقوب عمرمناکر لائے تھے،ان کو گرفتار اس وجہ سے کیاگیا ہے کیوں کہ آغا جان ،نذر محمد افغانی، نجیب اللہ منیب اور زاہد راشدی سمیت متعدد مذہبی شخصیات نے ایک نئی مذہبی تحریک بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پاکستانی اورافغانی علماء کرام شامل ہو رہے تھے اور یہ پاکستان نواز تحریک بننی تھی، اس کے علاوہ بدخشاں میں طالبان کے مزید سات ارکان کوگرفتارکیا گیا ہے ، حراست میں لئے گئے ان افراد میں وزارت دفاع کی کمیونی کیشن بٹالین کے یونٹ کمانڈر عبداللہ رحمانی اور ایک پبلی کیشن افسر فیصل البدر الہاشمی، صہیب خراسانی، ہارون ہاشمی، جبیر ہاشمی، عبدالمجید احمدی اور اسامہ برہانی شامل ہیں، اسامہ برہانی بدخشاں کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سروس کے سابق ڈائریکٹر ہیں، ان کو ایک کمانڈرکی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے ، باقی کوکابل منتقل کیا گیا ہے ،عباس ستانکزئی، جو طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر ہیں، نے خواتین کی تعلیم، آئین اور مشاورت کی ضرورت پر زوردیا اور نسبتاً معتدل مؤقف اختیارکیا لیکن اس پر انہیں شدید اندرونی دباؤکا سامنا کرنا پڑا۔ 2025 میں انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بنایا تو قیادت نے ان کے خلاف کارروائی کی، انہیں محدودکیا گیا اور مبینہ طور پرگرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان نظام کے اندر بھی اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں،صرف یہی نہیں، عباس ستانکزئی کو مبینہ طور پر گرفتاری کے احکامات اورسفری پابندیوں کابھی سامنا کرنا پڑا، انہیں اپنے عہدے سے ہٹادیاگیا اور بعد ازاں انہوں نے افغانستان چھوڑ دیا۔
اطلاعات کے مطابق 15 اپریل کو افغان طالبان کی اجازت کے بغیر مشرقی افغانستان کے علاقے نورستان اور چترال کے قبائلی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوئے، مذاکرات کے بعد کامدیش اور برگ متل اضلاع کو ملانے والے تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان نے ایران سے سینٹرل ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کر لی ہے مگر افغان طالبان کے لیے کوئی راستہ نہیں بچا، افغان طالبان کے پاس موجود اسلحہ اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اندر سے اٹھنے والی بغاوت کا مقابلہ کر سکیں۔ اندر سے پیدا ہونے والا ردعمل طالبان حکومت کے لئے خطرات پیدا کر رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہ پائے گی۔ افغان طالبان جس اسلحہ پر انحصار کر رہے تھے وہ اب ختم ہوچکا ہے۔
اس ساری صورت حال کے تناظر میں بین الاقوامی امور کے ماہر جریدے ’’ماڈرن ڈپلومیسی‘‘ نے افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ایک چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے، جس میں افغان طالبان کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا گیا ہے،رپورٹ میں براہِ راست الزام عائدکیا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی ’’غیر قانونی حکومت‘‘ کو برقرار رکھنے اور داخلی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے ممنوعہ تنظیموں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جریدے کے مطابق طالبان رجیم ان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ عسکری وسائل بھی مہیا کر رہی ہے،یورپی جریدے کی اس رپورٹ نے پاکستان کے ان خدشات کو درست ثابت کردیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کی نرسری بن چکا ہے، فتنہ الخوارج کو افغان سر زمین پر مکمل ریاستی تحفظ حاصل ہے،افغان انتظامیہ جان بوجھ کر پڑوسی ممالک کے امن کوداؤ پر لگا رہی ہے،رپورٹ کے آخر میں خبردارکیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی یہ سرپرستی عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے، اگر فوری طور پر ان ٹھکانوں کا سدباب نہ کیا گیا تو افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی یہ لہر پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کے معاملے پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے جب کہ ملک مسلسل چوتھے سال بھی جنرل اسمبلی میں ووٹ کے حق سے محروم ہے،افغان میڈیاکے مطابق طالبان حکومت کی پالیسیوں اور عالمی تقاضوں سے انحراف کے باعث اقوامِ متحدہ کی متعلقہ کمیٹی نے اب تک افغانستان کی مستقل نشست طالبان کے حوالے نہیں کی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی، اسمگلنگ کی روک تھام اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی مطالبات کو طالبان حکومت اندرونی معاملہ قرار دے رہی ہے جس کے باعث سفارتی پیش رفت تعطل کا شکار ہے،مزید برآں اقوامِ متحدہ کے سالانہ واجبات کی عدم ادائیگی کے سبب افغانستان کو مسلسل چوتھے سال جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے حق سے محرومی کا سامنا ہے جو عالمی سطح پر اس کی کمزور سفارتی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔
افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اس پر تنقید ہو رہی ہے، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ خود کو امیر المومنین قرار دیتے ہیں،ایک ایسی حکومت جو بندوق کے زور پر قائم ہو جس میں عوام کی رائے شامل نہ ہو، کسی صورت اسلامی امارت نہیں کہلا سکتی، جس میں تمام طاقت قندھار میں مرتکز ہو چکی ہے اور ریاستی ڈھانچہ یک شخصی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے،عوام کی خاموشی رضا مندی نہیں بلکہ خوف، دباؤ اور بقا کی مجبوری ہے، اختلاف رائے کو بغاوت قراردیا جاتا ہے، تنقید کو جرم بنایا گیا ہے،
افغانستان ایک کثیر النسلی ملک ہے جہاں پشتون 40 سے 45 فی صد، تاجک 25 سے 30 فی صد، ہزارہ 9 سے 15 فی صد اور ازبک و ترکمان 10 سے 13 فی صد ہیں، مگر طالبان کی رہبری شوریٰ جس کے قریباً 20 سے 25 ارکان ہیں، اس میں 85 سے 95 فی صد پشتون شامل ہیں،49 رکنی کابینہ میں صرف 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور ایک نورستانی شامل ہیں جب کہ ہزارہ برادری مکمل طور پر خارج ہے اور خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں،قندھار شوریٰ میں اقلیتوں کی مکمل عدم موجودگی، کابینہ میں غیر پشتون کی محدود اور غیر موثر نمائندگی اور سیکیورٹی اداروں پر مکمل پشتون کنٹرول اس بات کا ثبوت ہے کہ تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں کو مکمل طور پر اقتدار سے باہر رکھا گیا ہے۔
2026 کے ضابطوں کے مطابق ناقدین کو بغاوت یا فساد کے زمرے میں ڈال کر قید، تشدد اور بعض صورتوں میں قتل تک کی اجازت دی گئی ہے،خواتین، کارکنان اور مخالفین کو دھمکیاں، ہراسانی اور تشدد کاسامناکرنا پڑتا ہے، جب کہ بیرونی عناصر یا مداخلت کار کا الزام لگاکر اندرونی اختلاف کو بھی کچلا جاتا ہے، یہ ظاہرکرتا ہے کہ نظام مکمل طور پر خوف، خاموشی اور جبر کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے،یہ نظام الگ تھلگ اور بند دائرے میں چلنے والی حکم رانی کی مثال ہے، فیصلے قندھار میں ایک محدود حلقے میں کیے جاتے ہیں جب کہ عوام، میڈیا اور حتیٰ کہ ریاستی ادارے بھی اس عمل سے باہر ہیں، یہ ایک بند دائرے میں قائم طرزِ حکمرانی ہے جہاں حکم ران عوام سے مکمل طور پر کٹا ہوا، غیر شفاف اور ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہے،طالبان حکم رانی صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور سماجی کنٹرول بھی ہے، قبائلی روایات کو سخت مذہبی تعبیر کے ساتھ ملا کر ایک ایسا نظام نافذکیا گیا ہے جو خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے باہر نکالتا ہے، اختلاف کودباتا ہے اور جدید طرز حکمرانی کو مستردکرتا ہے، اسلام عدل وانصاف پر زوردیتا ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو لیکن موجودہ نظام میں مختلف طبقات کے لیے مختلف رویے اپنائے جاتے ہیں، ایک ہی جرم کے لیے مختلف سزائیں دی جاتی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ قانون طاقتورکے تحفظ اورکمزورکے خلاف استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلامی اصولِ مساوات اور عدل کی خلاف ورزی ہے،اس نظام میں نہ کوئی پارلیمان ہے، نہ آزاد عدلیہ اور نہ ہی آزاد میڈیا، تمام فیصلے ایک فرد اور اس کے محدود حلقے تک محدود ہیں،کوئی احتساب نہیں،کوئی شفافیت نہیں، اسلام میں حکمران جوابدہ ہوتا ہے لیکن یہاں حکم ران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے،اگرچہ طالبان اور ان کے حامی موجودہ صورت حال کو امن و استحکام قراردیتے ہیں لیکن یہ دراصل قبرستان جیسا امن ہے، ایسا سکوت جو عوامی رضامندی کے بجائے خوف، جبر اور اختلاف رائے کی عدم موجودگی پر قائم ہے،معیشت، تعلیم اور عوامی فلاح کے میدان میں یہ نظام ناکام ہے، غربت، بے روزگاری اورخوراک کا بحران بڑھ رہا ہے، جب کہ خواتین کی تعلیم پر پابندیاں اورجدید علوم کی مخالفت معاشرے کو پیچھے دھکیل رہی ہے،اسلام علم، ترقی اور فلاح کا دین ہے لیکن یہاں جمود اور پس ماندگی کو فروغ دیاجا رہا ہے،مذہب کو اس نظام میں ایک سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، شریعت کو انصاف اور رہنمائی کے بجائے اقتدارکے تحفظ، کنٹرول اور اطاعت مسلط کرنے کے لیے استعمال کیاجا رہا ہے، یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے جس میں دین رہنمائی اور عدل کا ذریعہ ہے، نہ کہ جبر کا۔
افغانستان کے سابق وزیرِاعظم گلبدین حکمت یار نے بھی طالبان حکومت کو ناقابلِ قبول قراردیتے ہوئے ملک میں جلد انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کردیا ہے،افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمت یارکا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کرتا، جس کے باعث ملک میں بے چینی اورغیر یقینی صورت حال بڑھ رہی ہے،سابق وزیراعظم کاکہنا تھا کہ افغانستان کو پائیدار سیاسی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں،انہوں نے زوردیا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام کے لیے عوام کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ n




