نگا شہریوں، گاؤں کے رضا کاروں اور بستیوں کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے حملوں کی بڑھتی تعداد پہاڑی علاقوں میں پھیلتی جدوجہد کا اشارہ ہے، جس میں نسلی مقابلہ آرائی شامل ہے۔
i
کوکی-زو برادری کے 3 چرچ قائدین کو رواں ماہ کی 13 تاریخ کو نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کر دیا۔ تھاڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن کے وومتھانگ سٹلہو، کائیگاؤلین اور پادری پاؤگاؤلین امن اجلاس میں شرکت کے بعد چوراچندپور سے کانگپوکپی جا رہے تھے، جب کوٹجیم اور کوٹلین کے درمیان ان پر منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا گیا۔ یہ تینوں کوکی-نگا امن مذاکرات میں شامل تھے۔
کوکی اِنپی منی پور (کے آئی ایم)، جو پورے شمال مشرقی ہندوستان، بنگلہ دیش اور میانمار میں کوکیوں کی اعلیٰ ترین سماجی اور سیاسی تنظیم کا حصہ ہے، نے امن کوششوں کو پٹری سے اتارنے کے لیے کیے گئے اس ’بزدلانہ اور وحشیانہ حملے‘ کی سخت مذمت کی۔ کے آئی ایم نے حملے کے لیے زیلیانگرونگ یونائیٹڈ فرنٹ (زیڈ یو ایف) کے کامسن گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ زیڈ یو ایف امپھال وادی میں سرگرم ایک باغی گروہ ہے۔
کے آئی ایم کے اس الزام نے منی پور کے پہاڑی اضلاع میں رہنے والے کوکی اور تانگخول نگاؤں کے درمیان (فروری 2026 سے) بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ نگاؤں کی کوکیوں کے ساتھ علاقائی تنازعات کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، اس کے باوجود وہ کوکی-میتیئی تنازعہ کے دوران غیر جانبدار رہے۔ اس تنازعہ میں مئی 2023 سے اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں اور 60 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
18 اپریل 2026 کو اخرول ضلع میں 2 تانگخول نگاؤں کے قتل کے بعد نگا-کوکی تصادم شروع ہوا۔ دونوں طرف لوگ مارے گئے اور کئی گاؤں نذر آتش کر دیے گئے۔ نگا سول سوسائٹی گروپوں نے اس کے لیے کوکی عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ منی پور پر نظر رکھنے والوں نے پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے تشدد بھڑکانے میں میتیئی گروپوں کے بالواسطہ کردار کی طرف اشارہ کیا۔
سٹلہو کی موت کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ وہ اتحاد قائم کرنے والی ایک شخصیت تھے اور 4 مئی کو کوہیما اجلاس میں ایک اہم مذاکرات کار تھے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ سٹلہو اور ان کے ساتھی نگاؤں کے ساتھ ایک امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ اس قتل سے وہ عمل متاثر ہو گیا، جس کے بعد دونوں طرف سے جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ خواتین، ایک بچے اور 2 کیتھولک تربیتی پادریوں سمیت تقریباً 40 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ 20 مئی تک 31 نگا اور کوکی شہریوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن کونساکھل-لیلون وائفیئی کے 6 نگا تب بھی یرغمال تھے۔
ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یونائیٹڈ نگا کونسل (یو این سی) نے این ایچ-2 پر غیر معینہ مدت کی ناکہ بندی شروع کر دی، جس سے منی پور کے لیے ضروری سامان لے جانے والے تقریباً 2,000 ٹرکوں کی قطار لگ گئی۔ اپنی جانب سے کے آئی ایم نے کوکی اکثریتی علاقوں میں بند کا اعلان کر دیا۔ شمال مشرقی ہندوستان میں بیپٹسٹ چرچوں کی کونسل کی 10 رکنی ٹیم نے دونوں برادریوں کے درمیان ثالثی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ سے ملاقات کی اور امن قائم کرنے کے لیے سیناپتی اور کانگپوکپی اضلاع کا دورہ کیا، جبکہ دوسری جانب آسام رائفلز اور ریاستی پولیس سمیت سیکورٹی فورسز تلاشی اور بچاؤ مہم چلا رہی ہیں۔
چوراچندپور ضلع کی سائیکوٹ سیٹ سے بی جے پی رکن اسمبلی پاؤلین لال ہاؤکپ کہتے ہیں کہ ’’یہ ’گیم آف تھرونز‘ جیسا ایک بے وقوفانہ کھیل ہے۔‘‘ دوسرے الفاظ میں کہیں تو یہ سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ اور موجودہ وزیر اعلیٰ (جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ ان کے آر ایس ایس سے گہرے تعلقات ہیں) کے درمیان اقتدار کی جنگ ہے۔ ہاؤکپ تعطل کے لیے بیرین سنگھ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ منی پور میں نسلی کشیدگی کو بھڑکائے رکھنے میں ان کا اپنا مفاد ہے۔ انہوں نے ’سنڈے نوجیون‘ سے کہا کہ ’’اس سازش کے سرغنہ کے کچھ مہرے تانگخول نگاؤں کے درمیان بھی موجود ہیں۔‘‘ اور اس طرح انہوں نے بیرین سنگھ اور نگاؤں کے ایک اہم مسلح گروہ کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بیرین نئی دہلی کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ منی پور میں امن بحال کرنے کے لیے وہی واحد ضروری شخصیت ہیں، حالانکہ وہ خود فرقہ وارانہ تشدد میں اپنے کردار کا اعتراف کر چکے ہیں۔ 2023 میں ریاستی اسلحہ خانوں سے لوٹے گئے اسلحوں اور گولہ بارود میں سے کتنا برآمد ہوا؟ کتنی ایف آئی آرز پر کارروائی ہوئی؟‘‘
ہاؤکپ کہتے ہیں ’’منشیات کے گروہ ہمیشہ کمزور قانون و انتظام اور بدنام انتظامیہ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ منی پور بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔‘‘ ساؤتھ ایشین ٹیررزم پورٹل کے حالیہ جائزے کے مطابق ’’اگرچہ مئی 2023 سے تشدد بنیادی طور پر میتیئی-کوکی تصادم کے گرد مرکوز تھا، لیکن حالیہ واقعات نگا-کوکی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر اخرول اور کامجونگ اضلاع میں۔ نگا شہریوں، گاؤں کے رضا کاروں اور بستیوں کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پہاڑی علاقوں میں پھیلتے ہوئے تنازعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں علاقائی دعووں کی دوڑ اور نسلی رقابتیں شامل ہیں اور اس سے وسیع تر کثیر نسلی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔‘‘
اس تنازعہ میں نئے اراکین کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے، جبکہ میتیئی-کوکی تنازعہ کے دوران ان کی بھرتی تقریباً صفر تھی۔ جیسا کہ ایک انسانی حقوق کے کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’’منی پور کا میتیئی اشرافیہ، کوکی لوگوں کو گھیرنے کے لیے نگاؤں کے خدشات کا استعمال کر رہا ہے۔‘‘
(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک مبصر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

