
امریکہ نے ہفتے کو عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی کریں گی تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ایران کو کی جانے والی ادائیگیاں، چاہے وہ نقد رقم، ڈیجیٹل اثاثوں، غیر رسمی لین دین یا دیگر شکلوں میں ہوں، پابندیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کے دہانے پر واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی تجارت گزرتی ہے، اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر اور دھمکیاں دے کر اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جبکہ بعد میں کچھ جہازوں کو اپنی ساحلی حدود کے قریب متبادل راستوں سے گزرنے کی اجازت دی، جس کے عوض فیس بھی وصول کی گئی۔
امریکہ نے اس کے جواب میں 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث ایرانی آئل ٹینکرز کی آمد و رفت متاثر ہوئی اور ملک کی تیل آمدنی میں کمی آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات فون پر جاری ہیں۔
ہرمز کا کنٹرول ایران کا ’حق‘
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے لیے تیل کی صنعت کو نیشنلائز کرنے جتنا اہم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیک زاد نے ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز کے نئے انتظام کو ملک کی تیل کی صنعت کو نیشنلائز کرنے جتنا اہم سمجھا جانا چاہیے۔
علی نیک زاد نے بندر عباس کے دورے کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کو اب اندرون ملک اور عالمی سطح پر ایران کے سب سے ’اہم ہتھیار‘ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام کے اپنے ’حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘
نائب سپکیر کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ضوابط 12 نکات پر مشتمل ہیں اور انہیں واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تاکہ مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جا سکے، جس کا ایک مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی تھا۔ تاہم، اس کے ایک دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر دی۔
ایران نے اس اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور آبنائے ہرمز میں پابندیاں برقرار رکھیں، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔




