
اسی لیے حدبندی کو محض انتظامیہ کی مرضی یا حکمراں جماعت کی انتخابی خواہشات پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے، آئینی بصیرت اور ایک حقیقی معنوں میں آزاد ادارے کی ضرورت ہے، جو جماعتی مقاصد سے بالاتر ہو کر کام کرے۔
ہندوستان کو فوری طور پر ایک معقول اور سائنسی اصول کی ضرورت ہے، جو آبادی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کامیابیوں، وفاقی استحکام اور جمہوری انصاف کے درمیان توازن قائم رکھے۔ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ یکطرفہ فیصلہ اور اس کے بعد کی خاموشی قابلِ قبول نہیں۔
راہل گاندھی پہلے ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ موجودہ صورتحال حکمراں جماعت کو 2029 سے قبل لوک سبھا نشستوں میں رد و بدل کی اجازت دے سکتی ہے۔ یہ اندیشہ خود اعتماد کے خطرناک زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔




