
وسطی غزہ کے البریج کیمپ کے ایک خیمے میں گڑیا بناتی شیرین الکردی ایک معلمہ ہیں۔
غزہ میں تین سال تک جاری رہنے والی سخت ناکہ بندی اور پابندیوں کے باعث جب باہر سے کھلونے آنا بند ہو گئے، تو بچوں کی دنیا جیسے اداس ہو گئی۔
اسی لمحے شیرین کے ذہن میں ایک سادہ مگر طاقتور خیال آیا کہ اپنے بچوں کے لیے خود گڑیاں بنائی جائیں، تاکہ وہ کھیل سکیں اور خوش رہ سکیں۔
36 سالہ شیرین پانچ بچوں کی ماں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سوچا تھا میں اپنے بچوں کے لیے گڑیا بناؤں گی تاکہ وہ ان سے کھیل سکیں۔ بعد میں ان کھلونوں کی مانگ بڑھ گئی اور یہ مشہور ہو گئے تو میں نے سوچا کے اپنے کاروبار کو بڑھا لوں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ گڑیا بچوں کی زندگی کا سہارا اور ان کے مسکرانے کی وجہ بن گئیں۔‘
شیرین الکردی پیشے کے لحاظ سے ایک عربی زبان کی معلمہ ہیں، لیکن حالات نے انہیں ایک کاروباری خاتون بھی بنا دیا۔
انہوں نے گھریلو سطح پر گڑیا بنانا شروع کیں، مگر یہ صرف ایک ماں کی کوشش نہیں تھی۔ آہستہ آہستہ ان کے بنائے ہوئے کھلونے لوگوں میں مقبول ہونے لگے، اور بچوں کی خوشی کا ذریعہ بن گئے۔
جب مانگ بڑھنے لگی، تو شیرین نے اس شوق کو ایک باقاعدہ کاروبار میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ نہ صرف گڑیا تیار کر رہی ہیں بلکہ انہیں فروخت کر رہی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ کہتی ہیں کہ تین سال کی جنگ کے بعد بچوں کے پاس کوئی کھلونے نہیں بچے۔ ان کے کھلونے ان کے گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔ بار بار بے گھر ہونے کے بعد جب یہ بچے واپس اپنے گھروں کو لوٹے، تو انہیں صرف کھنڈر ملے اور ان کھنڈروں میں کہیں ان کی معصوم خوشیاں بھی دفن ہو چکی تھیں۔
ایسے میں شیرین کی بنائی ہوئی گڑیا ان بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ صرف کھلونے نہیں بلکہ ایک سہارا بن گئیں ایک ایسا ذریعہ جس نے بچوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹیں لوٹا دیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ بے گھر ہوئیں اور اپنا گھر کھو دیا، تو ان کے تمام اوزار اور خام مال ملبے تلے دب گئے۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا جیسے زندگی کو دوبارہ صفر سے شروع کرنا ہو۔
لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ جب انہوں نے دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تو ایک نئی مشکل سامنے آئی۔ خام مال نہ صرف نایاب تھا بلکہ بہت مہنگا بھی ہو چکا تھا، اور اوزار بھی کہیں دستیاب نہیں تھے۔
مجبوراً انہیں سب کچھ نئی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر خریدنا پڑا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔


