
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ ’بہت اچھی بات چیت‘ کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ ’بہت ممکن‘ ہے
اوول آفس میں صحافیوں کو صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ کہ ’گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں۔‘
ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں جب ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران میں معاہد کتنی جلد متوقع ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم اب بھی پُرامید ہیں، اور میرا خیال ہے کہ سادہ جواب یہ ہوگا کہ ہمیں توقع ہے کہ معاہدہ جلد ہو جائے گا۔
’ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین ایک پُرامن اور دیرپا حل تک پہنچیں گے اور ہمارے خطے اور دنیا میں امن قائم ہو گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’جیسا کہ ہمارے وزیراعظم نے کہا اور جیسا کہ میں نے ابھی دہرایا، ہم اب بھی کسی حل کے لیے پُرامید ہیں اور امید کرتے ہیں کہ فریقین جلد کسی تصفیے پر متفق ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت، سفارتی ذرائع سے اسلام آباد کے ذریعے جو بھی پیش رفت ہوتی ہے اسے فوری طور پر آگے متعلقہ فریقوں تک پہنچایا جاتا ہے اور ’ہم امید کرتے ہیں کہ حتمی تصفیہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔‘
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بدھ کو کہا تھا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گا۔
11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع بھی ممکن ہو سکی تھی۔
جس کے بعد ایران کا مذاکراتی وفد پاکستان کا ایک اور دورہ کر چکا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔




