
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو معطل کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بیان میں پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو مختصر مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک ’مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب عظیم پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور ساتھ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا ’فراخدلانہ ردعمل اس حساس دور میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں نہایت معاون ثابت ہوگا۔‘
I am grateful to President Donald Trump for his courageous leadership and timely announcement regarding the pause in Project Freedom in the Strait of Hormuz.
President Trump’s gracious response to the request made by Pakistan and other brotherly countries, particularly the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 6, 2026
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے جرات مندانہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو معطل کرنے سے متعلق بروقت اعلان کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کا پاکستان اور دیگر برادر ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور میرے عزیز بھائی سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر فراخدلانہ ردعمل اس حساس دور میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں نہایت معاون ثابت ہوگا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کو فروغ دینے والی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
’ہمیں بھرپور امید ہے کہ موجودہ پیش رفت ایک ایسے دیرپا معاہدے کی جانب لے جائے گی جو خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنائے۔‘
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیان تھا کہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم (آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت) کو مختصر مدت کے لیے معطل کیا جا رہا ہے۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دوران آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
امریکی صدر نے ابتدا میں آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور چند روز قبل بحری جہازوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا کہا تھا جسے بعد میں ایرانی حکام نے ’پرواجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا تھا۔




