World

پریس فریڈم انڈیکس میں بنگلہ دیش سے پیچھے مودی کا ہندوستان، اقتدار اور میڈیا کے لیے جشن کا موقع!


ملک کا اقتدار اور میڈیا، پریس فریڈم انڈیکس میں اس مسلسل تنزلی پر یقیناً جشن مناتے ہوں گے، یہی تو ان کا خواب ہے اور یہی وزیراعظم مودی کے ‘وِکست ہندوستان‘ کی اصل تصویر ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

اب حیرت اس بات پر نہیں ہے کہ پریس فریڈم انڈیکس میں پی ایم مودی کا ’وِکست بھارت‘ ہر سال پہلے سے بھی نیچے گر جاتا ہے، بلکہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس ملک میں مین اسٹریم میڈیا جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، پھر بھی اس ہندوستان کا نام انڈیکس میں شامل کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کا مین اسٹریم میڈیا تو دوردرشن، پریس انفارمیشن بیورو اور ڈی اے پی وی جیسے سرکاری تشہیری اداروں کا ایک پرتشدد اور دھوکے کا جال پھیلانے والا رنگین مگر بدنما ’روپ‘ ہے۔ جب میڈیا اور اقتدار کی صورت اور سیرت ایک ہو جاتی ہے، تو پھر میڈیا کا اپنا وجود ہی کیا رہ جاتا ہے؟ ملک کا اقتدار اور میڈیا، پریس فریڈم انڈیکس میں اس مسلسل تنزلی پر یقیناً جشن مناتے ہوں گے، یہی تو ان کا خواب ہے اور یہی وزیراعظم مودی کے ‘وِکست ہندوستان‘ کی اصل تصویر ہے۔

’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے حال ہی میں ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026‘ جاری کیا ہے، جو کہ اس انڈیکس کا 25واں ایڈیشن ہے۔ اس انڈیکس میں شامل کل 180 ممالک میں ہندوستان 157 ویں نمبر پر ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں ہندوستان 6 درجے نیچے گرا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 151 ویں مقام پر تھا۔ ہندوستان کا انڈیکس اسکور 31.96  ہے، جو کہ عالمی اوسط اور ایشیا کے اوسط اسکور سے بہت پیچھے ہے۔

پریس فریڈم کا نام آتے ہی اقتدار کے ذریعے میڈیا کے استحصال کا خیال آتا ہے، عالمی سطح پر ہوتا بھی یہی ہے، لیکن ہمارے ملک کی صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے، یہاں کے میڈیا کو اقتدار نہیں کچلتا بلکہ میڈیا اقتدار کے ساتھ مل کر عوام کا استحصال کرتا ہے اور اسے ہی جمہوریت قرار دیتا ہے۔ جب اس دور کی کبھی غیر جانبدار تاریخ لکھی جائے گی تو اس پالتو میڈیا کے ہاتھ سب سے زیادہ خون سے رنگے ہوں گے۔ اس میڈیا نے خبروں کو ایک تماشے میں بدل دیا ہے اور جھوٹ کی ایک دنیا بسا دی ہے۔ اس کے اینکروں اور تمام چینلوں پر بیٹھے اقتدار کے ترجمانوں کی اکڑ اور غرور کے آگے تو ’راون‘ بھی بونا نظر آتا ہے۔ ٹی وی چینلوں پر بیٹھی خاتون اینکروں میں بھی ’شُرپنکھا‘ بننے کی دوڑ نظر آتی ہے۔ یہاں خبروں کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ اقتدار کی خوشامد اور دلالی کا مقابلہ ہے۔ مسلسل گرتے رہنے اور تنزلی کا مقابلہ ہے۔

سال 2014 کے بعد سے میڈیا کی کیا صورتحال ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس میں ہم سے بہتر پوزیشن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں ہندوستان 6 درجے نیچے گر گیا ہے، جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک میں نیپال 87 ویں نمبر پر ہے، مالدیپ 108 ویں، سری لنکا 134 ویں، بھوٹان 150 ویں، بنگلہ دیش 152 ویں، میانمار 166 ویں، افغانستان 175 ویں اور چین 178 ویں نمبر پر ہے۔ انڈیکس کے مطابق ہندوستان میں صحافتی آزادی پر بحران گہرا ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہاں کے میڈیا کو ’بندھوا مزدوری‘ ہی پسند ہے۔

’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق عالمی سطح پر عوامی مقبولیت پسند انتہا پسند دائیں بازو کی آمرانہ حکومتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صحافتی آزادی میں تیزی سے گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی وجوہات سیاسی مداخلت، جابرانہ آمریت اور میڈیا پر سرمایہ داری کا غلبہ ہے۔ سال 2026 میں انڈیکس کا اوسط اسکور گزشتہ 25 برسوں میں سب سے کم رہا ہے۔ میڈیا کی آزادی کے معاملے میں روایتی طور پر یورپ سب سے آگے رہا ہے، لیکن اب وہاں بھی یہ آزادی خطرے میں ہے۔

مجموعی طور پر 180 ممالک میں سے 100 سے زائد ممالک میں صحافتی آزادی میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔ پریس فریڈم کی صورتحال یہ ہے کہ سال 2002 میں دنیا کی 20 فیصد آبادی میڈیا کی آزادی والے ممالک میں مقیم تھی، جو سال 2026 میں سمٹ کر محض 1 فیصد رہ گئی ہے۔ دنیا کے 50 فیصد سے زائد ممالک میں اس آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سال 2026 کے انڈیکس میں سب سے تیز گراوٹ نائیجر میں دیکھی گئی ہے، جو ایک ہی سال میں 37 درجے نیچے گر کر 120 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف مسلسل خانہ جنگی اور غربت کی زد میں رہنے والا ملک شام ہے جس نے اس انڈیکس میں 36 درجوں کی چھلانگ لگائی ہے اور اب 141 ویں نمبر پر ہے۔

اس انڈیکس میں 92.72 پوائنٹس کے ساتھ ناروے پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد بالترتیب نیدرلینڈز، ایسٹونیا، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، آئرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، لکزمبرگ اور پرتگال ہیں۔ انڈیکس میں سب سے آخری نمبر پر اریٹیریا ہے، اس سے پہلے شمالی کوریا، چین، ایران اور سعودی عرب ہیں۔

دنیا کے اہم ممالک میں جرمنی 14 ویں، یونائیٹڈ کنگڈم 18 ویں، کینیڈا 20 ویں، جنوبی افریقہ 21 ویں، فرانس 25 ویں، آسٹریلیا 33 ویں، جنوبی کوریا 47 ویں، برازیل 52 ویں، اٹلی 56 ویں، جاپان 62 ویں، امریکہ 64 ویں، ارجنٹائن 98 ویں، فلپائن 114 ویں، میکسیکو 122 ویں، انڈونیشیا 129 ویں اور روس 172 ویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے مسلسل جنگ جھیلنے والا یوکرین اس انڈیکس میں 55 ویں مقام پر ہے۔ مسلسل آمرانہ اقتدار کی زد میں رہنے والے اور کھلے عام غیر جانبدارانہ صحافت کا استحصال کرنے والے ہنگری میں بھی صورتحال ہندوستان سے بہت بہتر ہے، انڈیکس میں ہنگری 74 ویں نمبر پر ہے۔

مذہبی انتہا پسندی، خانہ جنگی، دہشت گردی، آمریت اور اب اسرائیل و امریکہ کی مار جھیلنے والے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی صحافتی آزادی ہندوستان سے بہتر ہے۔ اس خطے میں لبنان 115 ویں، اسرائیل 116 ویں، کویت 136 ویں، لیبیا 138 ویں، شام 141 ویں، اردن 142 ویں، فلسطین 155 ویں، متحدہ عرب امارات 156 ویں، عراق 162 ویں، مصر 169 ویں، سعودی عرب 176 ویں اور ایران 177 ویں نمبر پر ہے۔

میڈیا خبروں کو نیا دکھائے تب بھی معاشرہ بہتر صورتحال میں رہتا ہے، لیکن ہمارے ملک کا میڈیا تو خبروں کو غائب کر کے دن رات جھوٹ اور تشدد کی تشہیر کرتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتی ہے اور ہم اسی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرمایہ داری اور دائیں بازو کا اقتدار بھوکی عوام کے سامنے پیزا اور برگر پیش کرتا ہے، درخت کاٹ کر ایئر کنڈیشنر بیچتا ہے، فضائی آلودگی سے بے حال کر کے ایئر پیوریفائر کی تشہیر کرتا ہے، زراعت کو بدحال کر کے اناج کی برآمد کا راستہ بتاتا ہے، بے روزگاروں کو تشدد کا روزگار تھماتا ہے، بالکل اسی طرح خبروں کو غائب کر کے ترقی کا ’مایا جال‘ بُنتا ہے۔ آپ سوچیے، آپ نے سماجی مسائل سے متعلق کوئی غیر جانبدار خبر آخری بار کب دیکھی تھی؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Related Articles

Leave a Reply

Back to top button