کراچی میں شہری پانی کے لئے پریشان 54 انچ کی لائن رسنے لگی، جس کی وجہ سے حسن اسکوائر کے قریب پانی جمع ہوگیا جبکہ سرکاری ہائیدرنٹس سے شہریوں کو پانی فراہم کر نے کے بجائے کمرشل بنیادوں پر پای فراہم ہونے لگا جس کی وجہ سے شہری مہنگے داموں ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، آئے دن مرکزی لائنیں پھٹنا ، رساؤ آنا ، پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی معطل ہونا معمول بن گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
حسن اسکوائر پر 54 انچ کی لائن میں رساؤ آگیا جس کی وجہ سے ضلع جنوبی کوپانی کی فراہمی بند ہوگئی تاہم واٹر کارپویشن نے مرمتی کام مکمل کرکے پانی کی فراہمی شروع کردی۔
دوسری جانب شہری ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہے لیکن وہاں بھی بے ضاطگیاں سامنے آرہی ہے۔
شہری سرکاری ہائیڈرنٹس پر آن لائن درخواست دینے کے باوجود پانی کئی کئی دن تک ٹینکر کا انتظار کرتے ہے جبکہ ان ہی ہائیڈرنٹس پر کمرشل بنیادوں پر ٹینکر حاصل کیا جا ئے تو چند گھنٹوں میں ٹینکر مل جا تا ہے۔
زرائع کاکہنا ہے کہ میئرکراچی مرتضی وہاب نے بے ضابطگیوں پر نیپا ہائیڈرنٹ پر تعینات واٹر کارپوریشن کے ملازمین کو مععطل کردیا تھا تاہم پھر ایک بارعوامی شکایت سامنے آرہی ہے جس میں نیپا ہائیڈرنٹ کے انچارج عادل نامی شخص بتا یا جا تا ہے جبکہ اس کامبینہ سہولت کار دانیال نامی ایک واٹر کارپوریشن کا ملازم اور ان دیگر ساتھیوں نے شہریوں کے بجائے نیپا ہائیڈرنٹ سے کمرشل بنیادوں پر ٹینکر فراہم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کی شکایت مسلسل موصول ہورہی ہے اور یہ اپنے اعلی افسران کو بھی خاطر میں نہیں لارہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک ہزار گیلن ٹینکر کی سرکاری قیمت 1560 روپے ہے جبکہ کمرشل بنیادوں پر ایک ہزار گیلن 3 سے 4 ہزار روپے میں ملتا ہے۔
شہریوں نے ایکسپریس اخبار سے رابطہ کرکے اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کہ واٹر کارپوریشن کا عملہ تعاون نہیں کررہا ہے سرکاری ہائیدرنٹ سے بھی پرائیوٹ ٹینکر جار ہے ہیں یہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اس حوالے سے واٹر کارپوریشن حکام کو فون کر موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔
