نیتن یاہو کی قیادت والے اسرائیل اور مودی کی قیادت والے ہندوستان کے ساتھ اتحاد کر کے یو اے ای مغربی اور جنوبی ایشیا میں تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا جوکھم اٹھا رہا ہے۔


i
’اوپیک‘ اور ’اوپیک پلس‘ سے نکلنے کا یو اے ای کا فیصلہ صرف تیل سے متعلق نہیں ہے۔ یہ واضح طور پر ایک جغرافیائی و سیاسی شگاف کو ظاہر کرتا ہے۔ ابوظبی نہ تو اب سعودی عرب کے ساتھ اپنی مخاصمت کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی علاقائی گروہوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کھل کر امریکہ اور اسرائیل والے نئے اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی جانب ہندوستان بھی تیزی سے جھک رہا ہے۔ یہ ایک بڑا اور خطرناک داؤ ہے، جو پہلے ہی کشیدہ خطے میں تصادم کی لکیروں کو مزید گہرا کرنے والا ہے۔
1960 میں قائم ہونے والا اوپیک تیل کی پیداوار میں تال میل پیدا کرنے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی قیمتوں پر اجتماعی کنٹرول دینے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔ اوپیک پلس کی تشکیل 2016 میں ہوئی تاکہ روس جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سمیت مزید 10 ممالک کو اس میں شامل کیا جا سکے۔ کئی دہائیوں تک سعودی عرب نے ان دونوں تنظیموں پر اپنا غلبہ برقرار رکھا اور انہیں اقتصادی و جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کے اوزار کے طور پر استعمال کیا۔ یو اے ای کے الگ ہونے سے سعودی عرب کا وہ اثر کسی حد تک کمزور ہوا ہے، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ابوظبی اب ریاض کی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ معاملہ صرف تیل کے شعبہ تک محدود نہیں بلکہ پورے علاقائی نظام تک پھیلا ہوا ہے۔
اس تنظیم سے نکلنے کے پیچھے معاشی دلیل بظاہر سیدھی ہے۔ یو اے ای اوپیک کے مقررہ کوٹے سے زیادہ تیل نکالنا چاہتا ہے، کیونکہ ایران جنگ کے باعث اس کی معیشت پر شدید دباؤ آیا ہے۔ وہ اپنے تیل کے ذخائر کو جلد از جلد دولت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں جب ’فوسل فیول‘ کی طلب کم ہو جائے تو وہ محفوظ رہ سکے۔ لیکن یہ صرف ظاہری وجہ ہے۔ اس کے پس پردہ سعودی عرب کے ساتھ ایک گہری اسٹریٹجک دوری موجود ہے، جو توانائی پالیسی، فوجی اتحادوں اور عالمی شراکت داریوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
2020 کے ابراہم معاہدے نے ایک اہم جغرافیائی سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کی، جس کے تحت یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے اور تجارت، ٹیکنالوجی و سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا۔ اس کے برعکس سعودی عرب نے اس معاہدے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اسی وقت معمول پر آ سکتے ہیں جب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو اور وسیع تر علاقائی مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان یہ اختلاف مسلسل بڑھ رہا ہے، اور ان کی صف بندی میں بھی یہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب باضابطہ دفاعی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے، تو دوسری طرف یو اے ای ہندوستان کے مزید قریب آ رہا ہے۔ وہ دفاع، خفیہ معلومات، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ مشترکہ اسٹریٹجک دائرے میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر رہا ہے۔
امریکہ نے اس تبدیلی کو فروغ دیا ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے اوپیک کو تیل کی قیمتیں کم کرنے اور توانائی منڈیوں پر مغربی ممالک کے اثر و رسوخ میں رکاوٹ سمجھتا رہا ہے۔ اوپیک چھوڑنے سے یو اے ای اس کارٹیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اجتماعی کنٹرول کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، جس سے یو اے ای کی تیل پیداوار میں اضافے اور بازار میں زیادہ اتار چڑھاؤ کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، اور اس کا فائدہ امریکی تیل پیدا کرنے والوں کو پہنچ سکتا ہے۔ ابوظبی کا یہ قدم امریکہ کے بڑے اسٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ ہے… یعنی سعودی غلبے والے تیل اتحاد کو کمزور کرنا، اوپیک کے اثر کو گھٹانا اور یو اے ای کو امریکہ کی قیادت والے جغرافیائی سیاسی و اقتصادی نظام سے مزید گہرائی سے جوڑنا۔
یو اے ای کی ہندوستان کے ساتھ بڑھتی قربت صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور اسٹریٹجک بھی ہے، اور اس کے سنگین مضمرات ہیں۔ ابوظبی نے نئی دہلی کی اس حکومت کے ساتھ ہاتھ ملانے کا انتخاب کیا ہے، جس کی داخلی اور علاقائی پالیسیوں نے مسلم دنیا میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان بھی اسرائیل کے مزید قریب جا رہا ہے، اور دفاعی تعاون، خفیہ معلومات کے تبادلے اور تکنیکی شراکت داری کو وسعت دے رہا ہے۔ یو اے ای-ہندوستان تعلقات اور ہندوستان-اسرائیل تعلقات میں مفادات کا یہ اشتراک محض اتفاق نہیں بلکہ موقع پرستانہ جغرافیائی سیاسی از سر نو صف بندی کا حصہ ہے۔ اس میں احتساب، انصاف یا اصول پر مبنی عالمی نظام جیسی باتوں کی پروا کیے بغیر سیکورٹی تعاون اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ یو اے ای کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ ابوظبی نے اپنی اقتصادی مدد کم کر دی ہے، سفارتی روابط سرد کر دیے ہیں اور سرمایہ کاری کے وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اپریل میں پاکستان سے کہا گیا کہ وہ یو اے ای کا پورا 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کرے۔ اس طرح یو اے ای اور سعودی عرب کی وہ رقابت، جو کبھی صرف علاقائی کشمکش تھی، اب ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں بھی الجھ گئی ہے، جس سے کئی نئے شگاف پیدا ہو گئے ہیں۔ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے بجائے یو اے ای ایک شدید منقسم جغرافیائی سیاسی صف بندی میں ایک فریق کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔
یو اے ای کی خارجہ پالیسی اسی رجحان کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ یمن سے لے کر لیبیا تک، ایتھوپیا اور سوڈان سے لے کر ہارن آف افریقہ تک، ابوظبی نے اسٹریٹجک سرمایہ کاری، فوجی مداخلت، حتیٰ کہ پراکسی قوتوں کے ذریعہ اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ یمن میں اس نے ان علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کی، جن کی سعودی حمایت یافتہ قوتوں سے جھڑپیں ہوئیں۔ سوڈان میں وہ ان نیم فوجی دستوں کی پشت پناہی کرتا ہے جن پر ہولناک مظالم کے الزامات ہیں۔ لیبیا میں اس نے ایک متحارب طاقتور رہنما کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی۔ اس نے صومالی لینڈ کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے۔ ان اقدامات نے تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔
یو اے ای اپنی ان سرگرمیوں کو شدت پسندی اور بدامنی کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی ہولناک نسل کشی کے باوجود اس نے اسرائیل کے ساتھ اقتصادی، تکنیکی اور فوجی تعاون بڑھانا جاری رکھا۔ دونوں کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور دفاعی و خفیہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ایران جنگ نے ابوظبی کے اس یقین کو اور پختہ کیا ہے کہ اس کی سیکورٹی عرب تنظیموں کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ وابستہ ہے۔
اس اتحاد میں ہندوستان کی شمولیت مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ روایتی شراکت داروں سے دوری اختیار کرتے ہوئے، نیتن یاہو کی قیادت والے اسرائیل اور مودی کی قیادت والے ہندوستان کے ساتھ اتحاد کر کے، یو اے ای مغربی اور جنوبی ایشیا میں تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ اس سے اس کی اپنی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو رواداری کو فروغ دینے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ اپنے اتحادوں کے نتائج کو غیر معینہ مدت تک نظر انداز نہیں کر سکتا۔
سعودی عرب بھی اس معاملے میں کم قصوروار نہیں۔ اس کی اپنی مداخلتوں اور عزائم نے علاقائی عدم استحکام کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یو اے ای کا چیلنج کوئی ترقی پسند متبادل نہیں، بلکہ آمرانہ طاقت کے مظاہرے کا ایک مسابقتی ماڈل ہے۔ ان دونوں کے درمیان رقابت نظریے سے کم اور اس بات سے زیادہ جڑی ہوئی ہے کہ علاقائی سیاست کے اگلے مرحلے پر کس کا غلبہ ہوگا۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ مسابقت (جو اب ہندوستان-پاکستان تعلقات سے بھی جڑ چکی ہے اور بیرونی اتحادوں سے مزید مضبوط ہوئی ہے) کئی خطوں میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گی۔ یمن، سوڈان اور لیبیا پہلے ہی اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا بھی خلیجی ممالک کی رقابت کا ایک اور میدان بن سکتا ہے۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈی‘ کے پروفیسر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

