(گزشتہ سے پیوستہ)
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ولا تبرجن تبرج الجاہِلِیۃِ الاولی (الاحزاب: 33) یعنی جاہلیت کے زمانے کی طرح بے پردگی اور نمائش نہ کرو۔ یہ آیت اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ ایک باوقار معاشرہ بے حیائی اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے وقار، حیا اور سنجیدگی کو اختیار کرتا ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یعنی بعض لوگ لہو و لعب کی باتوں کو اختیار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے دور کریں۔ (لقمان: 6 ) مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے اس آیت میں لہو الحدیث سے مراد ایسی سرگرمیوں کو لیا ہے جو انسان کو مقصد حیات سے غافل کر دیں۔ اس تناظر میں یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ جب قومیں اپنی سنجیدہ کامیابیوں کو بھی محض تفریح اور تماشے میں بدل دیتی ہیں تو وہ اپنی اصل سمت سے دور ہونے لگتی ہیں۔احادیثِ مبارکہ میں بھی حیاء اور وقار کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’الحیاء شعبۃ من الایمان ‘‘ یعنی حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ جب حیاء ختم ہو جائے تو انسان ہر وہ کام کرنے لگتا ہے جس سے پہلے وہ شرم محسوس کرتا تھا۔ یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک مسلمان معاشرے میں ہر وہ چیز جس سے بے حیائی، فحاشی یا اخلاقی کمزوری کو فروغ ملے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ خوشی اور شکرگزاری کا اظہار اسلام میں منع نہیں، بلکہ اسلام اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن خوشی کے اظہار اور بے اعتدالی میں واضح فرق ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی کے مواقع پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، صدقہ و خیرات کی جائے، اتحاد کو مضبوط کیا جائے اور معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کامیابیوں کو برکت میں بدل دیتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی تقریبات، اپنے رویوں اور اپنے اجتماعی طرزِ اظہار کو دینی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ جب ہم اپنی کامیابیوں کو شکرگزاری، دعا، اتحاد اور خدمت کے جذبے کے ساتھ جوڑ دیں گے تو نہ صرف ہماری کامیابیاں بامعنی بنیں گی بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ایک باوقار اور باحیاء معاشرے میں پروان چڑھیں گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، باوقار اور باایمان قوم کی پہچان بنتا ہے۔
مزید برآں ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک مہذب اور باوقار معاشرہ اپنی ترجیحات کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ جب قومیں اپنی اصل طاقت یعنی کردار، علم، اتحاد اور اخلاقیات کو مضبوط بناتی ہیں تو وہ دنیا میں عزت اور وقار حاصل کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جب معاشرے سنجیدہ معاملات کو بھی تفریح اور تماشے میں بدلنے لگیں تو ان کی اجتماعی سنجیدگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر ایسے عمل سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہماری قومی شناخت اور اخلاقی اقدار کو کمزور کرے۔اسلام ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال، وقار اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اپنی خوشیوں کو بھی ایسے انداز میں منانا چاہیے جو ہماری تہذیب اور دین کے مطابق ہو۔ اگر ہم اپنی کامیابیوں کو محض وقتی جذبات اور شور شرابے تک محدود کر دیں گے تو ہم اس گہرے پیغام کو نظر انداز کر دیں گے جو ان کامیابیوں کے پس منظر میں موجود ہوتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے اندر شکرگزاری، عاجزی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کریں۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آنے والی نسلیں ہمارے رویوں کو دیکھ کر سیکھتی ہیں۔ اگر ہم انہیں یہ سبق دیں گے کہ قومی کامیابیاں صرف جشن اور تفریح کا نام ہیں تو وہ ان قربانیوں کی اصل اہمیت کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گی۔ اس کے برعکس اگر ہم انہیں سنجیدگی، شکرگزاری اور ذمہ داری کا درس دیں گے تو وہ ایک مضبوط اور باوقار قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گی۔لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی اجتماعی سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں اور اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ ہمیں اپنی کامیابیوں کو اتحاد، خدمت اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
یہی وہ طرزِ فکر ہے جو قوموں کو مضبوط بناتا ہے اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جب ہم اپنی اقدار کو مضبوط کریں گے تو ہماری کامیابیاں بھی دیرپا اور بامعنی ثابت ہوں گی اور یہی ایک باشعور اور زندہ قوم کی پہچان ہے۔
