World

بی ایم سی اسپتال کے آڈٹ میں اربوں کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، محکمہ صحت کا ریکارڈ نہ دینے پر پی اے سی برہم – Daily Qudrat


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پبلک اکاونٹس کمیٹی (PAC) کا ایک اہم اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں اراکینِ کمیٹی غلام دستگیر بادینی، رحمت صالح بلوچ، صفیہ بی بی، ولی محمد نورزئی، خیر جان بلوچ سمیت سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور محکمہ صحت کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) ہسپتال کوئٹہ کے اس خصوصی آڈٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جو آڈیٹر جنرل کی نشاندہی پر مرتب کیا گیا تھا۔ دورانِ اجلاس یہ انکشاف ہوا کہ ہسپتال انتظامیہ نے آڈٹ حکام کی جانب سے بارہا مطالبے کے باوجود ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جس پر انتظامیہ نے مقف اختیار کیا کہ ادارہ پرانے نظام پر چل رہا ہے اور جون 2026 تک ریکارڈ مکمل کر لیا جائے گا۔آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے مالیت کی سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ادویات کی خریداری میں گھپلے، سرکاری محصولات کی کم وصولی، غیر شفاف ادائیگیاں اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہسپتال میں سی ٹی اسکین، اینجیوگرافی مشینیں اور آکسیجن گیس پلانٹ جیسی جدید طبی مشینری غیر فعال پڑی ہے، جبکہ ادویات کی ڈرگ ٹیسٹنگ اور اسٹورز کی فزیکل ویری فکیشن کا عمل بھی مکمل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نے محکمہ صحت کے عدم تعاون پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمیٹی نے ایک سال کے دوران ریکارڈ ریکوریاں کی ہیں اور اس معاملے میں بھی ریکوری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کمیٹی نے دوٹوک ہدایت جاری کی کہ 10 دن کے اندر آڈٹ حکام کے ساتھ مل کر ریکارڈ کی تصدیق مکمل کی جائے اور ملوث افراد کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ کمیٹی نے انتباہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ افسران کو خود جوابدہ ہونا پڑے گا کیونکہ کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہے۔



Related Articles

Leave a Reply

Back to top button