میں یملاجٹ ہوں۔ وہ جٹ جس کی داڑھی میں اب بھی گندم کے بالوں جیسا سنہرا رنگ ہے۔ جس کے ہاتھوں میں مٹی کی مہک آج بھی بسیرا کیے ہوئے ہےاور جس کی زبان کڑوی سہی مگرسیدھی ہے۔میں نےاس دھرتی کو اپنے باپ دادا کے پسینے سےسرسبز ہوتے دیکھا ہے۔ میں نےوہ وقت بھی دیکھاہےجب ایک جٹ کا لفظ عزت کے برابر ہوتا تھامگر آج عجیب زمانہ آ گیا ہےبھائیو!اب وہی دھرتی کےوارث اسی دھرتی پراجنبی بنتےجارہے ہیں۔عزت اب محنت سے نہیں دولت کےشور سےناپی جاتی ہے۔ سچ بولنے والا یملا کہلایا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والا عقلمند۔جب میں شہرکی چمکتی سڑکوں پرچلتاہوں اورآسمان کوچھوتے ہوئے محلات دیکھتا ہوں تو میرادل جل اٹھتا ہے۔ دوسری طرف وہی ایک عام پاکستانی جو اپنے بچوں کے منہ میں دودھ کاگھونٹ تک نہیں ڈال سکتا۔ایک طرف اقتدارکے ایوان ہیں جہاں قوم کے نام پرلمبی لمبی تقریریں ہوتی ہیں،جعلی مسکراہٹیں بکھری جاتی ہیں اوروعدوں کےپھول جھاڑے جاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ کسان ہےجو فصل اگانےوالاخود آٹے کے بھائوسےکانپتاپھرتا ہے۔ صاحبو! پہلے لٹیرے جنگلوں میں ہواکرتےتھے اب وہ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر قوم کی تقدیرلکھتے ہیں۔ پہلےدھوکہ دینے والے چہرہ چھپاتےتھےاب وہی لوگ ٹی وی پربیٹھ کر ایمانداری کےبھاشن دیتے ہیں مگر ایک بات یاد رکھو یملاجٹ ابھی مرا نہیں۔ اس دھرتی کا سادہ آدمی جب بولتا ہےتو اس کے لفظ نہیں اس کے سینے کےزخم بولتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست اوربیوروکریسی کےہالوں میں جب بھی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرناہوتوفائلیں عقاب کی پروازسےسفر کرتی ہیں۔ادھروزیراعظم کی دستخطی میز پر سمری پہنچتی ہے ادھر چند منٹوں میں نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا ہےاور راتوں رات ججوں کی پنشن وزرا کےالائونسز اور ارکان پارلیمان کی مراعات میں لاکھوں روپےکااضافہ کردیاجاتا ہے لیکن جیسے ہی تذکرہ اس ملک کے پچیس کروڑ پامال اور سسکتے ہوئے شہریوں کا آئے تو حکمران طبقےکواچانک معاشی حقیقتیں آئی ایم ایف کےسخت ترین کوائف اورملک کی خالی تجوری یاد آجاتی ہے۔ غریب کانوالہ چھینتے وقت یہ حکمران عالمی بینک کےدانشور بن جاتےہیں لیکن جب اپنی تجوریاں بھرنےکا وقت آئے تو یہ بےحسی کی چادر اوڑھ کر معصوم بن جاتے ہیں۔ یہی اس دیس کا سب سے بڑاالمیہ ہےجہاں اشرافیہ کی عیاشیاں ملک کی بقاکی ضامن سمجھی جاتی ہیں اورغریب کاجینا ایک جرم بےگناہ بن چکا ہے۔موجودہ حکومتی دور اقتدار میں معاشی ترجیحات کاجو تماشہ تماشائیوں نے دیکھا ہے وہ اس نظام کے کھوکھلے پن کی منہ بولتی تصویر ہے۔ ایک طرف یہ دعوی کیا جاتاہےکہ پاکستان معاشی تاریخ کے مشکل ترین دور سےگزر رہا ہےملک ڈیفالٹ کےدہانے پرکھڑا ہے اور ہرشہری کوقربانی دینی ہوگی لیکن دوسری طرف اسی بحران کےدوران اشرافیہ کے اپنے پیکیجز میں جو شاہانہ اضافے کیے گئے وہ عوامی زخموں پرنمک پاشی سےکم نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ اسی دور حکومت میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارسمیت سابق ججوں کی ماہانہ پنشن میں یکمشت تقریبا دس لاکھ روپےکاخطیر اضافہ کر دیاگیا۔ ان کی پنشن کااکیلااضافہ ملک کے بیس غریب خاندانوں کی کل ماہانہ آمدن سے زیادہ ہے۔ ستم ظریفی دیکھیےکہ جس ملک کے غریب بوڑھے پینشنرز چند ہزارروپے کے لیے شدید گرمی اورسردی میں لمبی لائنوں میں لگ کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں وہاں اشرافیہ کے وظیفے لاکھوں کےہندسوں سےنیچے بات ہی نہیں کرتے۔یہ کہانی صرف عدلیہ تک محدود نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی اور ایگزیکٹو کاحال اس سے بھی زیادہ دلخراش ہے۔ اسی کڑے معاشی دور میں وفاقی وزرا کی بنیادی تنخواہیں دو لاکھ سے بڑھا کر یکمشت دس لاکھ روپےتک پہنچادی گئیں ۔ حد تو یہ ہے کہ سپیکرقومی اسمبلی اورچیئرمین سینیٹ جیسے عہدوں کی تنخواہیں اورمراعات جو پہلے دو لاکھ کے لگ بھگ تھیں انہیں بڑھا کر پچیس لاکھ روپے ماہانہ تک کردیاگیا۔
اراکین پارلیمان کی مراعات مفت پٹرول کی حد فضائی سفر کےالائونسز اور یوٹیلیٹی بلوں کی معافی کے پیکیجزمیں جو ترامیم کی گئیں ان کا بوجھ بھی اسی لاچار عوام کے کندھوں پر ڈال دیاگیاجوخود آٹےکےایک تھیلے کےلئے قطاروں میں ذلیل وخوار ہو رہی ہے۔ جب حکمران اپنے عیش و آرام کا بندوبست کر رہے تھےٹھیک اسی وقت عوام پرپٹرول بجلی اورگیس کے ایسے بم گرائے جارہے تھے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی چار سوسولہ روپےفی لیٹر تک جا پہنچیں۔ پٹرول کی قیمت میں ہونے والا یہ اضافہ محض ایک فیول کی قیمت کا بڑھنا نہیں بلکہ اس نے آمد و رفت زراعت صنعت اور روزمرہ کی ہر اشیائے خورونوش کو عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دورکردیا۔ پٹرول کے اس جھٹکے نےملک میں غربت کی شرح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ متوسط طبقہ جو کبھی عزت کی زندگی گزاررہاتھا وہ خط غربت سےنیچےگرکر سفیدپوشی کا بھرم رکھنے کی ناکام جنگ لڑرہا ہے۔ تنخواہیں اورآمدن وہیں جم گئیں یا روپے کی قدر گرنے سے آدھی رہ گئیں لیکن زندگی گزارنےکاخرچ چارگنا بڑھ گیا۔اس پورے تماشے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ کردار ان درباری دانشوروں تنخواہ دار تجزیہ کاروں اور پریس کانفرنسوں میں بیٹھے راتب خوروں کا ہےجوحکومت کی ہرنااہلی کادفاع کرنےکےلیے اسکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ حکمران طبقہ اپنے فائدے کی بات پر تو انتہائی ہوشیار اورچالاک بن جاتا ہےلیکن جہاں اس پر کوئی ذمہ داری عائد ہو یا نقصان کا اندیشہ ہو وہاں وہ معصوم اورنادان بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ جب اشرافیہ کو اپنے پلاٹ حاصل کرنےہوں اپنےافسران کو مرسڈیز گاڑیاں دینی ہوں یاوزرا کےلئے نئے فنڈزجاری کرنےہوں تو ان کے پاس ہزاروں حل منٹوں میں نکل آتے ہیں۔ تب نہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط آڑے آتی ہے اور نہ ہی ملک کےدیوالیہ ہونے کاکوئی خوف دامن گیر ہوتا ہے۔ اس وقت ان کی معاشی مہارت اورانتظامی پھرتی دیکھنےلائق ہوتی ہےلیکن جیسے ہی کسی غریب کی تنخواہ میں دو ہزار روپے اضافے کی بات ہو ہلاک زدگان کی امداد کی باری آئے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کا معاملہ ہویاسرکاری اسکولوں کی حالت زار سدھارنے کافنڈ مانگا جائے تو یہ حکمران فورا یملے جٹ بن جاتے ہیں اور معصومیت سے ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں کہ صاحبو ملک کا خزانہ تو خالی ہے ہمارے پاس تو کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہمیں تو آئی ایم ایف نے جکڑ رکھا ہے۔یہ دوہرا معیار دراصل اس ملک کے عوام کے ساتھ ایک بدترین مذاق ہے۔ اشرافیہ نے اس ملک کو ایک ایسی کالونی بنا دیا ہےجہاں ٹیکس دینےوالا غلام ہےاورٹیکس کھانےوالا آقا۔ غریب سے پٹرول پر لیوی بجلی کے بلوں پر سرچارج اور آٹے دال پر سیلز ٹیکس وصول کر کےان حکام بالا کےمحلات کو روشن رکھاجاتا ہے جنہیں گرمی کا احساس تک نہیں ہوتاکیونکہ ان کے ائیرکنڈیشنر غریب کےخون پسینے کی کمائی سے چلتے ہیں۔ اگر ملک کو واقعی معاشی بحران سے نکالنا ہےتواس کا آغازاشرافیہ کے اپنے گریبان سے ہونا چاہیے۔ صدر وزیراعظم وزرا ججوں اور افسر شاہی کے لیےسرکاری پٹرول کی مفت فراہمی فوری طور پر بند کی جائے۔ اگر اس ملک کا کسان اور مزدوربجلی کابل اپنی جیب سےدیتاہے تو کسی بھی سرکاری عہدے دار کو ایک یونٹ بجلی بھی مفت نہیں ملنی چاہیے۔ وزرا اورسپیکرز کی تنخواہیں پچیس لاکھ اور دس لاکھ سےکم کرکے اس ملک کےاوسط معاشی حالات کے مطابق کی جائیں۔ جب تک قربانی کاآغاز اوپر سے نہیں ہو گا تب تک غریب کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاسکتا۔عوام اب بیدارہو رہےہیں اور وہ اشرافیہ کے اس یملے جٹ والے کھیل کو اچھی طرح سمجھ چکےہیں۔ اب یہ پروپیگنڈا نہیں چلےگا کہ عیاشیاں اشرافیہ کی ہوں اور قربانی کا بکرا غریب کو بنایا جائے۔ اگر نظام حکومت کو بچانا ہےتو سب سےپہلے اس اشرافیہ نوازمعیشت کو لگام دینی ہوگی ورنہ تاریخ گواہ ہےکہ جب بھوک حدسے بڑھتی ہے تو وہ محلات کے دروازوں پر دستک نہیں دیتی بلکہ انہیں اکھاڑ پھینکتی ہے۔ اب حساب کا وقت ہےکیونکہ جب ہل چلانے والا اپناحق مانگنےپرآتا ہےتو پھربڑےبڑے ایوانوں کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں۔ یہ سب اشرافیہ کے کھیل اب ختم ہونے چاہئیں تاکہ ایک عام پاکستانی بھی اپنے ملک میں باعزت زندگی گزار سکے۔
