
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے معیشت کی بہتری اور امن و امان کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی استحکام کو ضروری قرار دیا ہے اور سیاسی قیدیوں سے ملاقاتوں کے لیے سینیٹ ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی بانی پی ٹی آئی اور دیگر قیدیوں سے ملاقات کرے اور اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ ان کے مطابق ملاقات کے بعد رپورٹ پارلیمان میں پیش کرنا ضروری ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے بھی سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی ارکان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، علاج اور مقدمات کے معاملات اٹھائے۔ محمود خان اچکزئی نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کروائی جائے گی اور انہیں اپنی مرضی کے اسپتال کب منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو ہنگاموں کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ جلد ہونا چاہیے، لیکن بانی پی ٹی آئی تین سال سے جیل میں ہیں۔ ان کے مطابق وہ پندرہ بار سپریم کورٹ اور چوبیس بار ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں مگر انصاف نہیں ملا۔ اسد قیصر نے بھی مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل کے مطابق اسپتال منتقل کیا جائے۔
وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پارلیمانی کمیٹی کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس معاملے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو غیر سیاسی طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات کے نتائج مختلف صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں
