تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں، بگٹی قبیلہ اجتماعی فیصلوں اور روایات پر قائم ہے، شاہد رند – Daily Qudrat

تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں، بگٹی قبیلہ اجتماعی فیصلوں اور روایات پر قائم ہے، شاہد رند – Daily Qudrat


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے نواب میر عالی بگٹی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق کو جھٹلانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ بگٹی قبیلے کی اجتماعی دانش، روایات اور تاریخی فیصلوں کی توہین کے مترادف بھی ہیں انہوں نے کہا کہ نواب میر عالی بگٹی کا چیف آف بگٹی کے عہدے کے وجود سے انکار دراصل اپنے ہی ماضی اپنی ہی دستار بندی اور اپنے ہی قبیلے کے فیصلوں سے انحراف ہے ان کی دستار بندی کی تقریب میں بلوچی روایت کے مطابق چیف و وڈیروں کی طرف سے پہلی دستار چیف میر غلام قادر مسوری بگٹی نے رکھی شاہد رند نے کہا کہ اگر آج نواب میر عالی بگٹی چیف آف بگٹی کے منصب کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان کی دستار بندی کے موقع پر ان کے سر پر بطور نواب دستار کس نے رکھی تھی ؟ کیا وہ تاریخی تقریب محض ایک رسمی اجتماع تھا یا بگٹی قوم کے اجتماعی فیصلے کی علامت ؟
انہوں نے کہا کہ تاریخ کے اوراق آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ مرحوم میر غلام قادر مسوری بگٹی نے بطور چیف آف بگٹی نواب میر عالی بگٹی کے سر پر دستار رکھی تھی اور یہ حقیقت کسی بیان یا سیاسی ضرورت سے تبدیل نہیں ہوسکتی معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مرحوم فہد بگٹی اگر آج زندہ ہوتے تو وہ بھی اس حقیقت کی گواہی دیتے کہ اس تاریخی دستار بندی کی تقریب میں بطور صحافی میں خود موجود تھا نواب میر عالی بگٹی نے قبل ازیں مجھ سے انٹرویو کی کمنٹمنٹ کی تاہم دستار بندی کے بعد وہ اس سے منحرف ہوئے جس پر مرحوم میر غلام قادر مسوری بگٹی نے انہی نصیحت کی کہ کمنٹمنٹ سے انحراف بلوچی روایات کے شایان شان نہیں جس کے بعد نواب میر عالی بگٹی نے انٹرویو کی حامی بھری اس وقت کی میری رپورٹنگ اور تحریر آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ نواب میر عالی بگٹی کو وہ انٹرویو بھی اچھی طرح یاد ہوگا اس تمام تر عمل کا عینی گواہ اس تقریب کا اسٹیج سیکرٹری دریحان بگٹی ہے جس سے بخوبی دریافت کیا جا سکتا ہے شاہد رند نے کہا کہ چند سیاسی مصلحتوں یا وقتی بیانیوں کی خاطر تاریخ کو جھٹلانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں بگٹی قوم جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ اپنی روایات قبائلی فیصلوں اور اجتماعی اتفاق رائے سے چلتی ہے جس طرح بگٹی قوم معتبر وڈیروں اور قبائلی عمائدین نے نواب میر عالی بگٹی کو نواب تسلیم کیا تھا اسی طرح انہی قبائلی روایات اور اجتماعی فیصلوں کے تحت میر سرفراز بگٹی کو چیف آف بگٹی کی دستار پہنائی گئی انہوں نے کہا کہ نواب خاندان کے ایک فرد کی جانب سے دو روز قبل دیا گیا بیان دراصل ذاتی سیاسی بے چینی اور حقیقت سے فرار کی کوشش ہے اور موصوف نواب زادے کو ایسی ہی وجوہات پر نواب اکبر خان بگٹی مرحوم نے اپنی زندگی میں قبیلے اور علاقے سے بے دخل کیا تھا اور موصوف نواب زادے کے بیان کو بگٹی قوم اور وڈیروں نے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے بگٹی قوم کسی فرد واحد کی خواہش پر اپنی تاریخ روایات اور اجتماعی فیصلوں سے دستبردار نہیں ہوسکتی شاہد رند نے کہا کہ تاریخ کو جھٹلانے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ قبائلی معاشروں میں فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ قوم اور معتبر عمائدین کے سامنے ہوتے ہیں اور بگٹی قوم آج بھی اپنے اجتماعی فیصلوں پر قائم ہے انہوں نے واضح کیا کہ بگٹی قبیلے کی روایات تاریخی حقائق اور قبائلی وقار کو سیاسی مفادات کی نذر کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا، معاون وزیر اعلیٰ نے چیف آف بگٹی میر سرفراز بگٹی کی جانب سے نواب میر عالی بگٹی سے درخواست کی کہ وہ دبئی کے ائیر کنڈیشن و پر تعش کمروں میں وقت گزارنے کے بجائے ڈیرہ بگٹی واپس آکر اپنی قوم کے درمیان رہیں اور اپنی مقبوضہ اراضیات واہ گزار کروائیں، قوم کے مسائل حل کریں اور فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کریں



Leave a Reply