پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو انڈیا کے خلاف ’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہوں گے۔
پاکستان معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منا رہا ہے۔ اس موقعے پر ملک بھر میں اور بیرون ملک سفارتی مشنوں میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ انڈیا کے خلاف گذشتہ مئی میں چار دونوں پر مشتمل کامیاب کارروائیوں پر افواج اور جان سے جانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔
اس حوالے سے راول پنڈی کے جنرل ہیڈکواٹرز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں فیلڈ مارشل نے کہا ’معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان، اس کے عوام اور مسلح افواج نے بے مثال فتح حاصل کی۔‘
انہوں نے کہا کہ انڈیا فوجی جارحیت اور سفارتی تنہائی کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کے خواب دیکھتا ہے۔
’یہ خواب اس کی اوقات اور صلاحیتوں سے بہت بڑھ کر ہے اور پاکستان اسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔‘
انہوں نے کہا ’ہم اپنے شہدا کی قربانی کو ایک مقدس امانت، اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری اور اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت سمجھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’عوام اور قومی قیادت کا پیغام واضح ہے: قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔‘
فیلڈ مارشل منیر نے مزید کہا ’انڈیا کو اس جنگ کے نتیجے میں جانی اور مالی دونوں لحاظ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا، جس کی قیمت وہ آنے والے برسوں تک چکاتا رہے گا۔‘
انہوں نے کہا ’پاکستان فضائیہ کے فاتح میزائلوں اور شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زائد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘
فیلڈ مارشل منیر نے کہا ’الحمدللہ! آج پاکستان کا کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف دفاع مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے۔‘
انہوں نے کہا ’دشمن سمجھ لے، پاکستان کے خلاف کسی بھی مستقبل کی مہم جوئی کے نتائج محدود نہیں بلکہ انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا ’موجودہ اور مستقبل کی جنگیں کثیر الجہتی آپریشنز پر مشتمل ہوں گی جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز، سائبر صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہو گا۔‘
انہوں نے کہا ’افواج پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز قائم کیا گیا ہے۔‘
فیلڈ مارشل منیر نے کہا ’برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ہماری سفارتی کامیابیوں میں ایک عظیم سنگ میل ہے۔‘
معرکہ حق حالیہ دہائیوں میں دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے سنگین فوجی کشیدگی میں سے ایک تھا۔
یہ بحران 22 اپریل، 2025 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد شروع ہوا، جہاں مسلح افراد نے دو درجن سے زائد سیاحوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، جسے اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے ایک غیر جانب دار اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سفارتی تعلقات تیزی سے بگڑ گئے۔ سرحدیں سخت کر دی گئیں، ویزے معطل کر دیے گئے اور دونوں اطراف فوجی نقل و حرکت میں تیزی آ گئی۔
چھ اور سات مئی کی رات انڈیا نے پاکستان کے اندر متعدد مقامات پر حملے کیے۔
As the nation commemorates the glorious success of Marka-e-Haq and Operation Bunyan-un-Marsoos, we thank Allah Almighty and pay tribute to the extraordinary courage, unwavering resolve, and supreme sacrifices of our Armed Forces and the people of Pakistan.
In the face of…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 9, 2026
پاکستانی حکام نے کہا کہ ان حملوں نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں رہائشی مکانات اور مساجد شامل تھے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری اموات ہوئیں۔
پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے ذریعے جواب دیا، جو فضائی، بری، بحری، سائبر اور انفارمیشن وار فیئر صلاحیتوں پر مشتمل مربوط فوجی ردعمل کا کوڈ نام تھا۔
پاکستانی حکام نے کہا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں انڈیا کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے گئے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے اور انڈین فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے گئے۔
انڈیا نے بعد ازاں ڈرون مداخلت اور فوجی اہداف پر میزائل حملوں کے ذریعے تنازعے کو وسعت دی، جس کے بعد بین الاقوامی سفارتی مداخلت سے چار دن بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔
“The events of April & May last year were not simply a military episode but a moment of national reckoning. When India, under the guise of the Pahalgam false flag operation, launched unprovoked strikes on our soil, Pakistan responded with discipline, precision, courage & unity.” pic.twitter.com/6tOUZdbVji
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) May 10, 2026
’موزوں اور ہمہ جہت جواب‘
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے پیغام میں ملک کی ’مسلح افواج اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘
اتوار کو صدر پاکستان کے دفتر کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ’معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر صدر آصف علی زرداری نے افواج پاکستان اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور طاقت، اتحاد اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کی خودمختاری، آبی حقوق اور علاقائی امن کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔‘
’ناقابل تسخیر قوم‘
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس دن کو شکرگزاری اور یاد کا دن قرار دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا ’معرکہ حق ہم پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر اس کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے۔‘
انہوں نے کہا بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر مربوط اور ہم آہنگ فوجی ردعمل نے پاکستان کو ’ایک ناقابل تسخیر قوم‘ کے طور پر ثابت کر دیا۔
وزیراعظم نے کہا ’معرکہ حق اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی امن پسند، مگر بہادر، مستحکم اور باوقار قوم ہیں جنہیں کوئی بھی جارح نہ ڈرا سکتا ہے اور نہ ہی دبا سکتا ہے۔‘
وزیراعظم شریف نے فوجی قیادت کو سراہا اور خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مستقبل کی جارحیت کا جواب ’فوری، موزوں اور ہمہ جہت‘ انداز میں دیا جائے گا۔
’تاریخ کا اہم باب‘
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ یہ سالگرہ ’ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم باب‘ ہے اور مئی 2025 کے واقعات نے پاکستان کی صلاحیت اور تحمل کا مظاہرہ دیکھا۔
خواجہ آصف نے کہا ’معرکہ حق محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی، یہ ایک مستقل لکیر کھینچ دینا تھا۔‘
’کوئی غلط فہمی نہ رہے۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی مستقبل کی جارحیت کا جواب کہیں زیادہ فیصلہ کن، ہمہ گیر اور بھاری پڑے گا۔‘
’اعلیٰ عملیاتی مہارت‘
فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر صدیو کا مشترکہ بیان جاری کیا۔
اس بیان میں معرکہ حق کو ’قوم کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا یہ ’قومی عزم، فوجی فضیلت اور سٹریٹجک پختگی‘ کا عکس ہے۔
