
پاکستان نے اتوار کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر صحافیوں کے تحفظ اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
حکومت کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آزادی صحافت کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان نے بہتری دکھاتے ہوئے انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر رہا، جو انڈیا سے چار درجے بہتر ہے۔ انڈیا رواں سال چھ درجے تنزلی کے بعد 157ویں نمبر پر چلا گیا۔
یہ سالانہ انڈیکس میڈیا کی آزادی کو سیاسی، قانونی، معاشی، سماجی و ثقافتی اور سلامتی کے پیمانوں پر جانچتا ہے۔
پاکستان ’شیپنگ آ فیوچر ایٹ پیس‘ کے عالمی موضوع کے تحت ورلڈ پریس فریڈم ڈے منا رہا ہے اور ملک کی اعلیٰ قیادت نے آزادیٔ اظہار کے آئینی تحفظات اور صحافیوں کے لیے مزید سکیورٹی اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔
آصف علی زرداری نے اس موقعے پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ آزادی صحافت جمہوری نظام اور قومی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
Pakistan remains firmly committed to freedom of the press as both a constitutional guarantee and a democratic necessity. A free, independent and diverse media is not a threat to a confident nation, rather a proof of one. pic.twitter.com/SnfaVNgFie
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) May 2, 2026
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا: ’امن سچائی کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا اور جدید دنیا میں سچائی ان لوگوں پر منحصر ہے جو اسے تلاش کرنے، پرکھنے اور سامنے لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔‘
صدر نے عالمی سطح پر صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی ذکر کیا، جن میں غلط معلومات، معاشی دباؤ اور جسمانی خطرات شامل ہیں، اور خبردار کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو مزید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان آزادیٔ صحافت کے لیے ’پختہ عزم‘ رکھتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے کے تحت اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آزاد، خودمختار اور متنوع میڈیا کسی پراعتماد قوم کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کا ثبوت ہوتا ہے۔‘
2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کشیدگی اور ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے غلط معلومات کا مؤثر مقابلہ کیا اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا: ’ہم نے زور سے نہیں بلکہ حقائق سے جواب دیا اور شور سے نہیں بلکہ وضاحت سے کام لیا۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں تیز رفتار ڈیجیٹل ماحول میں پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کے خلاف مؤثر مزاحمت پر زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یومِ آزادیِ صحافت 3 مئی 2026 پر پیغام.
عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر میں پاکستان اور دنیا بھر کے صحافی، کالم نویس، رپورٹرز، مدیران، براڈکاسٹنگ اورصحافت سے وابستہ تمام افراد کو انکی بے لوث خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
صحافت سے وابستہ افراد کی… pic.twitter.com/xvNlxO7Jxs
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) May 3, 2026
انہوں نے کہا: ’درست، غیر جانبدار اور بروقت معلومات کی فراہمی معتبر صحافت کی بنیاد ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ذمہ دار صحافت امن کے قیام، باخبر عوامی مکالمے اور جمہوری احتساب کے لیے ناگزیر ہے، اور صحافیوں کو محفوظ اور باوقار ماحول میں کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اہم مواقع پر قومی میڈیا کے کردار کو سراہا، جن میں ’معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص‘ شامل ہیں اور کہا کہ صحافیوں نے عوامی آگاہی اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ انڈیا کی درجہ بندی میں کمی کی وجہ قومی سلامتی کے قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال اور صحافیوں پر قانونی دباؤ ہے، جس سے میڈیا کے لیے ماحول مزید مشکل ہو گیا ہے۔
اگرچہ پاکستان اب بھی عالمی درجہ بندی کے نچلے حصے میں شامل ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ بہتری میڈیا کی آزادی کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔




