Chitral Times – صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اقدامات جاری ہیں، 19 افراد کو معطل اور 17 اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے، وزیراعلیٰ 

Chitral Times – صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اقدامات جاری ہیں، 19 افراد کو معطل اور 17 اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے، وزیراعلیٰ 


صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اقدامات جاری ہیں، 19 افراد کو معطل اور 17 اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے، وزیراعلیٰ

.

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر اپنے سخت اور دوٹوک موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو نظام میں موجود کرپشن کے تمام راستوں کا بخوبی علم ہے اور ان کے سدباب کیلئے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب تک 49 افسران کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں جبکہ 19 افراد کو معطل اور 17 اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 47 افراد کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے جبکہ مجموعی طور پر 150 سے زائد کرپشن کیسز مختلف مراحل میںہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ماضی میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نظام میں غیر ضروری مداخلت کی جاتی تھی، تاہم موجودہ حکومت نے اس نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پوسٹنگ اور ٹرانسفر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے تحت شفاف انداز میں ہو رہی ہیں اور تعینات ہونے والے افسران کو بھی پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں تعینات کیا جا رہا ہے، تاکہ کسی قسم کے دباو، سفارش یاذاتی مفادکی گنجائش ہی نہ رہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کیلئے کالے چینلز لانچ کیے گئے ہیں اور بعض صحافیوں کو مالی فوائد دے کر حکومت مخالف بیانیہ تشکیل دینے کا ٹاسک دیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں مگر کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی آئی ایم ایف رپورٹ میں کی گئی مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت ہر سطح پرشفافیت کو یقینی بنا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، بیوروکریٹ یا کسی بھی بااثر شخصیت کا رشتہ دار ہو، ہر شخص قانون کے سامنے برابر ہوگا۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بیوروکریسی کو دباو میں لانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن سے متعلق شکایات کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے دروازے کھلے ہیں، عوام مستند ثبوت فراہم کریں، حکومت فوری کارروائی کرے گی۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی جبکہ کرپشن کے مستند ثبوت فراہم کرنے والوں کیلئے انعامات کا بھی اعلان کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ قائد عمران خان کے وڑن کے مطابق کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے ، صوبائی حکومت ہر صورت شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔
۔

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع کے لیے فنڈز کے اجرا، اخراجات اور مختلف شعبوں میں مالی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد، فنڈز کے موثر استعمال اور مالی نظم و ضبط سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ جاری مالی سال کے اختتام تک تمام جاری شدہ فنڈز کے مکمل اور بروقت استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہوسکیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیراعلیٰ نے اے آئی پی فنڈز کے موثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ 89 فیصد استعمال کو بڑھا کر 100 فیصد تک لے جانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے مربوط حکمت عملی اختیار کریں تاکہ دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ عوامی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔اجلاس میں رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے صوبائی کیش فلو فورکاسٹنگ پر بھی غور کیا گیا جبکہ مختلف شعبوں میں مالیاتی ضروریات اور دستیاب وسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 5 ارب 60 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے تاکہ دہشتگردی کے خلاف استعداد کار کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تکمیل کے قریب ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب 39 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے ہیں تاکہ ان منصوبوں کو جلد مکمل کرکے عوام کو سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

اسی طرح پی آر پی منصوبے کے لیے 13.825 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی کے ایچ اے کے لیے 100 فیصد فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ مختلف ترقیاتی شعبوں میں فنڈز کے موثر اور بروقت استعمال کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کا موثر نظام برقرار رکھا جائے۔

chitaltimes cm sohail afridi chairing adp meeting





Leave a Reply