World

فضائی دفاع ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہا ہے: یو اے ای


  • امریکہ اور ایران میں نازک جنگ بندی کے دوران خلیج میں کشیدگی
  • یو اے ای کا ایران کی جانب آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کا اعلان
  • میزائل حملوں کے بعد یو  اے ای نے فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دیں

لائیو اپ ڈیٹس


فضائی دفاع ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہا ہے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت دفاع نے منگل کی شام سات بجے کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاع اس وقت ایران سے شروع ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہا ہے۔ 

وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی آوازیں متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام کے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے نتیجے میں سنائی دے رہی ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے منگل کو فضائی حدود کو جزوی طور پر بند کرتے ہوئے پروازوں کو چند منظور شدہ روٹس تک محدود کر دیا تھا اور ہنگامی سکیورٹی پروٹوکول فعال کر دیے تھے۔

ان پابندیوں کا اطلاق کم از کم 11 مئی تک برقرار رہے گا۔


پاکستان کی یو اے ای پر حملوں کی مذمت، سیز فائر برقرار رکھنے کا مطالبہ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک بیان میں متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سیز فائر کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔

شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ روز ایک بار پھر کشیدگی دکھائی دی جب آبنائے ہرمز میں ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کیے گئے جبکہ گذشتہ رات متحدہ عرب امارات میں بھی میزائلوں اور ڈرونز سے عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

فجیرہ میں حکام نے پیر کی شب بتایا کہ فجیرہ آئل انڈسٹریز زون میں ایک حملے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے۔

حکام نے کہا کہ وہ معمولی زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایران سے آنے والے چار کروز میزائل ڈیٹیکٹ کیے گئے۔ تین کو علاقائی سمندری حدود میں کامیابی سے روکا گیا جبکہ چوتھا سمندر میں گر گیا۔

تاہم پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ سیز فائر کا احترام ضروری ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو روکنے میں پاکستان نے اب تک اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک میں سیز فائر ممکن ہوا۔

وزیر اعظم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ’یہ نہایت ضروری ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اس کا احترام کیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے ضروری سفارتی راستہ نکالا جا سکے، جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کرے۔‘

اس سے قبل سعودی عرب نے بھی خطے میں تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مزید تصادم سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ’پاکستان کی ثالثی و سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ایک سیاسی حل تک پہنچا جا سکے جو خطے کو مزید تناؤ، امن و استحکام کی خرابی سے بچائے کیونکہ یہ نہ خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔‘





Related Articles

Leave a Reply

Back to top button