
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایران کی جانب سے دی گئی تازہ ترین امن تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس کے قابل قبول ہونے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
جنگ یا امن کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں: ایران
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا چاہتا ہے یا کھلی جنگ کی طرف واپس جانا چاہتا ہے اور یہ کہ تہران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کی راہ اختیار کرتا ہے یا تصادم کے انداز کو جاری رکھتا ہے۔‘
چین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کر دیا
چین نے کہا ہے کہ وہ ان پانچ کمپنیوں پر امریکی بین کی پابندی نہیں کرے گا جنہیں ایرانی تیل خریدنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ دوبارہ تصادم کا امکان: ایرانی فوج
ایران کے ایک سینیئر فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئی لڑائی ’ممکن‘ ہے کیونکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز پر تنقید کی ہے۔
امریکہ قطر کو چار ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل دے گا
امریکہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے خلیجی اتحادی قطر کو چار ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسرائیل کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بھیجی گئی اطلاعات میں کہا کہ دونوں سودے امریکہ کی ’خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی‘ کے مقاصد کے مطابق ہیں۔




