World

ونود نیکولے: سب سے امیر ریاست کا سب سے غریب رکن اسمبلی


ونود نیکولے وارلی قبائلی ہیں اور تحریکوں میں آگے رہتے ہیں۔ وہ کسانوں کے ساتھ چلے، سب کے ساتھ زمین پر سوئے اور وہی کھانا کھایا جو سب کے لیے بنا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ونود نکولے، تصویر ’فیس بک‘</p></div><div class="paragraphs"><p>ونود نکولے، تصویر ’فیس بک‘</p></div>

i

user

google_preferred_badge

جب انہیں پتہ چلا کہ وہ مہاراشٹر اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں، تب ان کے نام پر بینک کھاتہ تک نہیں تھا۔ ان کی بیوی نے انہیں 15,000 روپے قرض دیے۔ وہ ایک قبائلی رہائشی اسکول میں ٹیچر تھیں۔ پارٹی کے کارکنوں نے اپنی صلاحیت کے مطابق مدد کی اور پرچۂ نامزدگی بھرنے سے پہلے وہ 52,000 روپے جمع کر پائے۔

ونود نیکولے کے سامنے مشکلات اور بھی تھیں۔ ان کے اہم حریف دھنارے پاسکل جنیا تھے، جو پہلے سے رکن اسمبلی تھے اور 2014 میں دہانو سیٹ سے 16,000 سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے۔ وہ بی جے پی سے تھے، جس نے اس سال اسمبلی انتخاب میں 82 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے کی بات مانی تھی۔ لیکن نتائج آنے پر پیسوں کی کمی بے معنی ثابت ہوئی اور نیکولے تقریباً 5,000 ووٹوں کے فرق سے جیت کر رکن اسمبلی بن گئے۔ پالگھر ضلع کے قبائل اکثریتی علاقے دہانو میں اپنے دفتر کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے نیکولے مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’چچیرے بھائی نے مجھے تقریباً 70,000 روپے قرض دیے تھے۔ انتخاب سے پہلے میرے پاس یہی واحد نقد پیسہ تھا۔‘‘

یہ کہانی ایک ایسے ہندوستان کی لگتی ہے جو اب کہیں نظر نہیں آتا۔ لیکن 2019 میں ایسا ہوا اور پھر 2024 میں بھی۔ تب، جب بی جے پی لگاتار انتخاب جیت رہی تھی اور سیاست ایسا کھیل ہے جہاں بغیر پیسے کے جیتنا مشکل ہے۔ 48 سالہ نیکولے ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی-مارکس وادی (سی پی ایم) سے بڑی آسانی سے دوسری بار رکن اسمبلی بن گئے۔ وہ بھی اس ریاست میں جہاں 93 فیصد ارکان اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔

دہانو سے 4 کلومیٹر دور، واکی گاؤں میں اینٹ بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھر پیدا ہوئے نیکولے مہاراشٹر کے سب سے غریب رکن اسمبلی ہیں۔ وہ ریاست جہاں انتخاب میں سب سے زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، نیکولے پیسے نہیں بانٹ سکتے اور نہ ہی اپنی بات پھیلانے کے لیے بڑی سوشل میڈیا ٹیم رکھ سکتے ہیں۔ ان کی اصل طاقت زمین پر کام کرنا، تحریکوں میں شامل ہونا اور عام لوگوں، خصوصاً قبائل کسانوں اور مزدوروں تک آسانی سے پہنچ ہے۔

رواں سال جنوری میں 10 دنوں کے اندر سی پی ایم سے وابستہ آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) نے پالگھر، ناسک اور اہلیا نگر کے قبائلی علاقوں میں کسانوں کے 2 بڑے مظاہرے کیے۔ گزشتہ 19 جنوری 2025 کو 50,000 کسان پالگھر کلکٹر دفتر کی طرف پیدل مارچ کرتے ہوئے پہنچے اور زمین کے حقوق اور روزگار جیسے مسائل پر بہتر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد ناسک سے ہزاروں کسان ممبئی کی طرف مارچ کرتے ہوئے نکلے، تاکہ ریاستی حکومت پر دباؤ بنایا جا سکے۔

2006 میں حکومت ہند نے جنگل حقوق قانون (ایف آر اے) نافذ کیا، جس کے تحت درج فہرست قبائل اور جنگل میں رہنے والی دیگر روایتی برادریوں کو جنگل کی زمین اور وسائل پر حقوق دیے گئے۔ گرام سبھائیں ان حقوق کے دعوے شروع کرتی ہیں، جن کی جانچ ذیلی ڈویژنل اور ضلع کمیٹیاں کرتی ہیں۔ جب تک ان کے حقوق طے نہیں ہو جاتے، تب تک انہیں بے دخلی سے تحفظ ملتا ہے۔ لیکن زمین پر اس قانون کا اب بھی صحیح طریقے سے نفاذ نہیں ہو رہا۔ اے آئی کے ایس نے ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے اور دیگر کسان سبھاؤں نے مل کر حکومت کو اپنی ایک اہم مانگ پر راضی کر لیا ہے، جس میں (ایف آر اے) کے تحت مسترد کیے گئے کئی دعوؤں پر دوبارہ کارروائی پر رضامندی دی گئی ہے۔

نیکولے خود وارلی قبائل ہیں اور دونوں ہی تحریکوں میں آگے رہے۔ وہ کسانوں کے ساتھ چلے، سب کے ساتھ زمین پر سوئے اور وہی کھانا کھایا جو سب کے لیے بنا تھا۔ کسان سبھا کے صدر اشوک دھولے کہتے ہیں کہ ’’ان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ خود کو اجتماعی قیادت اور متحدہ تحریک کا حصہ مانتے ہیں۔‘‘

ان مظاہروں میں شامل رہیں تقریباً 60 سال سے زیادہ عمر کی ایشوتی گہلا کہتی ہیں کہ کسی رکن اسمبلی کو عام لوگوں کی طرح ریلی میں شامل ہوتے دیکھنا بہت اطمینان دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’آج کل ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اس سے لگتا ہے کہ ہماری آواز صحیح طریقے سے سنی جا رہی ہے۔‘‘ ایشوتی پالگھر ضلع کے جامشیت گاؤں کی رہنے والی ہیں اور وہ بھی وارلی قبائل ہیں۔ ان کے خاندان کے پاس 2 ایکڑ زمین ہے، جہاں وہ باقی لوگوں کی طرح بارش کے موسم میں دھان اگاتی ہیں۔ ایشوتی کہتی ہیں کہ ’’ہم صرف ایک ہی فصل لگا پاتے ہیں۔ آبپاشی کی سہولت نہ ہونے سے باقی وقت کچھ خاص نہیں کر پاتے۔‘‘

نیکولے کہتے ہیں کہ ’’یہ علاقہ قبائلیوں کا ہے، اس لیے یہاں سب سے بڑے مسائل مزدوروں کے حقوق اور زمین کے حقوق ہیں۔ یہاں 50 سے 60 کمپنیوں میں ہماری یونین ہے اور ہم باقاعدگی سے بہتر مزدوری کے لیے ان سے بات کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی دھیان رکھتے ہیں کہ کمپنیوں کو نقصان نہ ہو۔‘‘

جس دن میں ان سے دہانو میں ملا، وہ بوئیسر سے آئے تھے جو تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر ہے، جہاں انہوں نے ٹھیکہ مزدوروں کی میٹنگ سے خطاب کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہم نے ان کی تنخواہ 12,000 سے بڑھا کر 13,050 روپے فی ماہ کروائی ہے۔‘‘ یہاں اڈانی گروپ کا ایک تھرمل پاور پلانٹ بھی ہے، جسے پہلے انل امبانی سنبھالتے تھے۔ نیکولے کہتے ہیں کہ اس پلانٹ میں بھی ان کی یونین ہے، جہاں وہ ٹھیکہ مزدوروں کی تنخواہ بڑھانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب لیڈر سمجھوتہ کر لیتے ہیں، تو یونین کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘

اسی پلانٹ میں ٹھیکہ مزدور سریش جادھو (54) بتاتے ہیں کہ 2010 میں جب انہوں نے یونین بنائی تھی، تب ان کی تنخواہ 2,600 روپے تھی۔ تب نیکولے رکن اسمبلی نہیں تھے، لیکن یونین کا کام سنبھالتے تھے۔ رکن اسمبلی بننے کے بعد بھی وہ وہاں عہدیدار ہیں، لیکن اب ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔

جادھو کہتے ہیں کہ ’’2010 میں ہم تقریباً 1,000 لوگ اس پلانٹ میں کام کرتے تھے۔ آج ہماری تنخواہ 28,000 روپے فی ماہ ہو گئی ہے۔‘‘ یہ 16 سال میں تقریباً 1,000 فیصد کا اضافہ ہے، جس کے بارے میں مزدور پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پلانٹ کے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی کرنے والے جادھو کہتے ہیں کہ اب ان کی بات زیادہ سنی جاتی ہے، کیونکہ رکن اسمبلی ان کے ساتھ ہیں۔ نیکولے ہر عام آدمی کی بات سنتے ہیں اور متعلقہ لوگوں کو فون کر کے مسئلے کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہی طریقہ ہے، جس سے میں انتخاب جیت سکتا ہوں۔ ہر صبح 10 بجے کے بعد آپ مجھے یہاں میرے دفتر کے باہر مل سکتے ہیں۔ کوئی بھی آ کر مجھ سے بات کر سکتا ہے۔‘‘

2024 میں جب نیکولے نے دوسری بار انتخاب کے لیے اپنا حلف نامہ داخل کیا، تب ان کی کل جائیداد 87 لاکھ روپے بتائی گئی۔ اس میں زیادہ تر حصہ اس 0.25 ایکڑ زمین اور اس پر بنے ان کے سادہ گھر کا ہے، جسے انہوں نے حال ہی میں خریدا اور بنایا ہے۔ 2019 میں رکن اسمبلی بننے کے بعد انہیں ہر ماہ 1.5 لاکھ روپے تنخواہ ملنے لگی، جو 2024 کے انتخاب کے بعد مہاراشٹر میں بڑھ کر 2 لاکھ روپے ہو گئی۔ تقریباً 41 سال کی عمر میں انہیں پہلی بار باقاعدہ ماہانہ آمدنی ملی۔ انہوں نے اسی پیسے کو بچا کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے گھر بنایا۔ نیکولے بتاتے ہیں کہ ’’اس سے پہلے پارٹی مجھے ہر ماہ 3,000 روپے دیتی تھی۔ آج بھی میں اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ پارٹی کو دے دیتا ہوں۔‘‘

اس کے برعکس جب ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) نے 2024 میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کا تجزیہ کیا، تو پایا کہ ریاست کے 93 فیصد اراکین اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔ سب سے امیر رکن اسمبلی کی جائیداد 500 کروڑ روپے بتائی گئی۔ 2024 کے انتخاب کے بعد، جس میں بی جے پی نے بڑی جیت حاصل کی تھی، اے ڈی آر کے ایک اور مطالعے میں پایا گیا کہ 279 کروڑ پتی فاتحین میں سے 157 (یعنی 56 فیصد) امیدوار 50 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ شیئر کے ساتھ جیتے۔

اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ برسراقتدار پارٹی اور ان کے درمیان وسائل کے بڑے فرق کی وجہ سے بی جے پی ہر انتخاب میں پہلے سے ہی برتری لے کر چلتی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں ہی بی جے پی کو ملک بھر میں 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا چندہ ملا، جو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس سے 12 گنا زیادہ ہے۔ برابری کا مقابلہ یہاں نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ایک مہینے سے کم وقت میں صرف آن لائن اشتہارات پر 55 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ انتخاب سے پہلے ووٹروں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے۔ لیکن نیکولے کہتے ہیں کہ اس بڑے فرق اور نقصان کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اگر آپ لوگوں کے دلوں اور دماغ میں جگہ بنا لیں تو راستہ آسان ہوجائے گا۔ آپ کو ان کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ تب لوگ اپنا ووٹ نہیں بیچیں گے، چاہے کوئی کتنا بھی پیسہ کیوں نہ دے۔ میرے بی جے پی حریف نے انتخاب میں مجھ سے تقریباً 100 گنا زیادہ پیسہ خرچ کیا تھا۔‘‘

2019 کے اسمبلی انتخاب کے بعد کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ شیوسینا نے اپنے 56 اراکین اسمبلی کو راتوں رات ایک ریزورٹ میں بھیج دیا تاکہ بی جے پی انہیں اپنے حق میں نہ کر لے۔ جب باقی اپوزیشن اراکین اسمبلی ریزورٹ میں تھے، تب نیکولے دہانو میں کھلے عام گھوم رہے تھے۔ بہر حال، معاشی پریشانی کے باعث کالج چھوڑنے کے بعد نیکولے، دہانو کے ایک کینٹین میں کام کرتے تھے، جہاں وہ کھانا پیش کرتے اور برتن صاف کرتے تھے۔ ایک سینئر سی پی آئی (ایم) لیڈر کی نظر ان پر پڑی اور انہوں نے انہیں پارٹی میں شامل ہونے کے لیے کہا۔ نیکولے یاد کرتے ہیں کہ اس وقت رکنیت فیس 5 روپے تھی۔ انہوں نے مذاق میں اس لیڈر سے کہا کہ ’’آپ نے میرے کینٹین میں ناشتہ کیا اور مجھے ہی آپ کو 5 روپے دینے ہیں؟ اس کا الٹا نہیں ہونا چاہیے کیا؟‘‘ جب انہوں نے 5 روپے کی رسید کاٹ دی، تو لیڈر نے کہا کہ ’’اب تم پارٹی کے رکن ہو۔‘‘ نیکولے کہتے ہیں ’’اس وقت مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس کا کیا مطلب ہے، لیکن انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور میں پارٹی کے لیے کام کرنے لگا۔‘‘

دہانو سے انتخاب لڑنے سے بہت پہلے ہی نیکولے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کئی زمینی تحریکوں میں آگے رہے اور طاقتور لوگوں کا سامنا کیا۔ 2013 سے 2015 کے درمیان ان کی تحریک کے باعث پولیس نے ان پر غیر قانونی اجتماع اور فساد کرنے کے مقدمات درج کیے۔ انہیں 5 اضلاع میں داخلے پر پابندی لگانے کا حکم بھی دیا گیا۔ لیکن دہانو پولیس اسٹیشن کے باہر 25,000 کسانوں کے جمع ہونے سے وہ حکم واپس لینا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’رکن اسمبلی بننے کے بعد بھی میں زمینی تحریکوں سے غائب نہیں ہوا، بلکہ اور زیادہ سرگرم ہو گیا ہوں۔ آگے چل کر میں اپنے علاقے میں ایک اچھا اسپتال بنوانا چاہتا ہوں، جو اب تک نہیں ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Related Articles

Leave a Reply

Back to top button