اس کے علاوہ اسٹارمر کی اپنی پارٹی کا بھی ان کی قیادت پر سے بھروسہ اُٹھتا نظر آرہا ہے۔ لیبر پارٹی کے کئی ممبران پارلیمنٹ کو اب خدشہ ہے کہ اگر اسٹارمر کی غیر مقبولیت جاری رہی تو اس سے مستقبل میں لیبر حکومت کی تشکیل کے امکانات خطرے میں پڑ جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ملک ’ریفارم یو کے‘ کے رہنما نائجل فاریج کی قیادت والے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کے ہاتھوں میں چلا جائے۔
