آپریشن سندور: کہانی ایک ایسی جنگ کی جس نے خواہش کے برعکس نتیجہ دیا

آپریشن سندور: کہانی ایک ایسی جنگ کی جس نے خواہش کے برعکس نتیجہ دیا


چاہے پاکستان کے دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہوں، لیکن تصور نے اپنا کام کر دیا۔ دفاعی بازار صرف کارکردگی سے ہی نہیں، بلکہ بیانیے سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آپریشن سندور، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@narendramodi</p></div><div class="paragraphs"><p>آپریشن سندور، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@narendramodi</p></div>

i

user

google_preferred_badge

’آپریشن سندور‘ کے ایک سال بعد بھی مودی حکومت اسے اس طرح پیش کرتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی بھی سرا پاکستان سے جڑا ہوگا، تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ وہ ہمیں یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ یہ ہندوستان کا نیا فوجی نظریہ ہے۔ اس دعوے میں سیاسی طاقت دکھائی دیتی ہے۔ پھر بھی جنگوں کا اندازہ صرف ان کے ارادوں پر نہیں، بلکہ ان کے بعد پیدا ہونے والے طاقت کے توازن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس پیمانہ پر دیکھیں تو ’آپریشن سندور‘ ایک اسٹریٹجک کامیابی سے کہیں زیادہ ایک مہنگا اور خطرناک قدم لگتا ہے، جس نے ہندوستان کی فوجی اور سفارتی طاقت کی حدود کو سامنے لا دیا۔ ایسا اس لیے کیونکہ ’آپریشن سندور‘ نے دنیا کے سامنے پاکستان کی حیثیت کو پھر سے بڑھا دیا اور چین کے اسلحوں کی ایک غیر متوقع تشہیر کر دی۔

یہ آپریشن اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں کشمیر میں 26 عام لوگ مارے گئے تھے۔ ہندوستان نے بغیر تاخیر اس حملہ کے لیے پاکستان سے جڑے دہشت گردوں کو قصوروار ٹھہرایا اور 7-6 مئی کی رات پورے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں کئی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ نئی دہلی کا مقصد دہشت گرد ڈھانچے کو نشانہ بنانا، کشیدگی کو جوہری حد سے نیچے رکھنا اور یہ دکھانا تھا کہ بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد پہلے جو تحمل برتا جاتا تھا، وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اس محدود معنی میں اس جوابی حملے کو کافی سرخیاں ملیں۔ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستان جوہری خطرات کے باوجود پاکستان کے اندرونی علاقوں میں فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن جنگ کا میدان جلد ہی ’سوچ سمجھ کر دی گئی سزا‘ کی طے شدہ اسکرپٹ سے باہر ہو گیا۔

پاکستان نے جوابی فوجی کارروائی کی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ سیاسی، سفارتی اور نفسیاتی طور پر خود کو بچانے میں کامیاب رہا۔ اس آپریشن سے پہلے تک ہندوستان کے پاس نہ صرف ایک بڑی معیشت اور ایک بڑی فوج کی طاقت تھی، بلکہ روایتی برتری کا ایک گہرا جڑ پکڑ چکا تصور بھی تھا۔ اس تصور کی خاص اہمیت تھی۔ اس نے سفارت کاری، مزاحمت، میڈیا کے بیانیے اور پاکستان کی اپنی کمزوری کے احساس کو شکل دی۔ لیکن ’آپریشن سندور‘ میں جو کچھ ہوا، اس نے اس تصور کو چکنا چور کر دیا۔

دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے ہندوستان کے 2، 5 یا اس سے زیادہ طیارے مار گرائے تھے (حالانکہ یہ بات اب بھی متنازعہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن ہندوستان کے سینئر فوجی افسران اور کئی بیرونی حکام سے یہ محدود تصدیق بھی ہوئی کہ چین میں بنے پاکستانی طیاروں نے ہندوستانی جنگی طیاروں کو، جن میں کم از کم ایک رافیل بھی شامل تھا، مار گرایا تھا)۔ یہ اسٹریٹجک بحث کا رخ بدلنے کے لیے کافی تھی۔ ایک ایسا ملک، جسے کمزور سمجھا جاتا تھا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے مخالف کو بھاری نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ایسا بنیادی فوجی سبق ہے جسے ہندوستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ روایتی برتری محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ اسے سینسر، میزائل، الیکٹرانک جنگ، کمانڈ نیٹورک، جنگی طیاروں کے معیار، پائلٹ تربیت اور معلوماتی نظم و ضبط، ان تمام شعبوں میں ثابت کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ تصادم کے بعد کے مرحلوں میں ہندوستان نے پاکستانی ہوائی اڈوں اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدائی نقصان کے بعد اس نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہو اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست اسلحوں کا مؤثر انداز میں استعمال کیا ہو۔ لیکن آج کے دور کے تصادمات میں، پہلی تصویریں اور ابتدائی دعوے ہی عالمی کہانی کو شکل دیتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان کی خاموشی نے ایک خلا پیدا کر دیا۔ پاکستان نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ چین نے اسے اور بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ دنیا نے ہندوستان کے اعلان کردہ ’سزا دینے کے لیے کیے گئے درست حملے‘ پر نہیں، بلکہ اس امکان پر توجہ دی کہ چینی پلیٹ فارمز اور پاکستانی حکمت عملیوں نے ہندوستان کی فضائی طاقت کو کامیابی سے چیلنج کیا ہے۔

پاکستان کو تو ویسے بھی اپنے ہر دعوے کو مکمل طور پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے بس ہندوستان کی مانی ہوئی فضائی طاقت پر شبہ پیدا کرنا تھا۔ اس لیے ’آپریشن سندور‘ نے کوئی ایسی یکطرفہ برتری ثابت نہیں کی، جیسا کہ بی جے پی کے حامی دعویٰ کرتے ہیں۔ اس نے ایک ایسی غیر برابری کو بے نقاب کر دیا، جس پر تنازعہ تھا۔ مجموعی طور پر ہندوستان اب بھی فوجی طور پر زیادہ طاقتور ہے، لیکن پاکستان نے یہ دکھا دیا کہ کاغذوں پر دکھائی دینے والی طاقت کو نئے اسلحوں، بہتر نیٹورک، چین کی حمایت، طویل فاصلے کے میزائلوں اور سوچ سمجھ کر بنائی گئی کشیدگی بڑھانے کی حکمت عملی سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔

سفارتی نتائج بھی ہندوستان کے لیے کم غیر آرام دہ نہیں رہے ہیں۔ امریکہ ویسے تو ہندوستان کے زیادہ قریب تھا، خلیجی ممالک اس معاملے میں زیادہ عملی تھے، اور اسلام آباد قرض، سیاسی عدم استحکام اور بغاوت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان طاقتور تو نہیں بنا، لیکن وہ ایک بار پھر مفید ضرور بن گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے بار بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہندوستان-پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ عوامی طور پر اس بحران میں خود کو شامل کیا، اور پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر کو ایک اہم ثالث کے طور پر اہمیت دی۔ ہندوستان کے لیے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ کشمیر اور ہندوستان-پاکستان کے درمیان کشیدگی دو طرفہ معاملات ہیں، یہ ایک سفارتی جھٹکا تھا۔ اس بحران کا مطلب یہ دکھانا تھا کہ ہندوستان کی کارروائی نے بیرونی ثالثی کی بات چیت کے لیے پھر سے گنجائش پیدا کر دی ہے۔

عاصم منیر کو اس سے کافی فائدہ ہوا۔ تصادم سے پہلے گھریلو تنقید سے نبرد آزما پاکستان کی فوج نے خود کو ایک ایسے محافظ کے طور پر پیش کیا، جس نے ہندوستان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جنرل کا عالمی قد بڑھا، خاص طور پر ٹرمپ کے دور کی واشنگٹن کی انتہائی ذاتی سفارت کاری میں۔ پاکستان نے خود کو مشرق وسطیٰ اور ایران و خلیجی خطے کی سلامتی کے معاملے میں ایک اہم کردار کے طور پر بھی قائم کیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی پائیدار اسٹریٹجک واپسی نہ ہو، لیکن اس نے ہندوستان کے اس دعوے کو کمزور کر دیا کہ پاکستان اب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مودی پاکستان کو سزا دینا چاہتے تھے۔ لیکن انہوں نے راولپنڈی کو وہ کھوئی ہوئی توجہ واپس پانے میں مدد کی۔

چین کا پہلو اور بھی زیادہ اہم ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے چینی اسلحوں پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن ’آپریشن سندور‘ نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور خفیہ تال میل کو اور گہرا کر دیا ہے۔ چین نے پاکستان کو ریئل ٹائم مدد دی اور اس بحران کا استعمال ہندوستانی نظام کے خلاف اپنے اسلحوں کو پرکھنے کے لیے ایک ’لائیو لیبارٹری‘ کے طور پر کیا۔ بیجنگ کے لیے، یہ کم لاگت والا اسٹریٹجک تجربہ تھا۔ اسے ہندوستان سے براہ راست لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ ہندوستان کے رد عمل کو دیکھ سکا، چینی پلیٹ فارمز کو ٹیسٹ کر سکا، مغربی طیاروں کا اندازہ لگا سکا اور ہمالیہ یا انڈو-پیسیفک خطے میں مستقبل میں ہونے والے کسی ممکنہ تصادم کے لیے سبق سیکھ سکا۔

چین کی دفاعی صنعت کو اس کا فوری فائدہ ملا۔ جے-10 سی عالمی بحث میں ایک بغیر آزمودہ چینی جنگی طیارے کے طور پر نہیں، بلکہ ہندوستان اور اس کے فرانسیسی جنگی طیاروں کے خلاف جنگ میں ملی کامیابی سے جڑے طیارے کے طور پر سامنے آیا۔ اے وی آئی سی چینگدو کی آمدنی اور حصص کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوا اور مغربی نظاموں کے سستے اور قابل اعتماد متبادل تلاش کرنے والے ممالک کے درمیان چینی طیاروں میں دلچسپی بڑھ گئی۔

چاہے پاکستان کے دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہوں، لیکن تصور نے اپنا کام کر دیا۔ دفاعی بازار صرف کارکردگی سے ہی نہیں، بلکہ بیانیے سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔ ایک بھی متنازعہ جنگ فروخت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہندوستان نے ایک ایسا آپریشن شروع کر کے، جس نے پاکستان اور چین کو اپنے نظام دکھانے کا موقع دیا، انجانے میں ہی اس فوجی ’ایکو سسٹم‘ کی ساکھ بڑھا دی، جسے اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کو پہلگام کے واقعہ کو نظر انداز کر دینا چاہیے تھا۔ ایسے سفاکانہ قتل عام کے بعد کوئی بھی حکومت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہندوستان کو جوابی کارروائی کا حق تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مودی کی منتخب کردہ، انتہائی سیاسی رنگ میں رنگی ہوئی جوابی کارروائی نے ہندوستان کی سلامتی کو بہتر بنایا۔

سزا دینے کے لیے کیا گیا ایسا حملہ، جس کے سبب طیاروں کا نقصان ہو، پاکستان کے فوجی بیانیے کو طاقت ملے، ٹرمپ ثالثی کے دعووں میں شامل ہو جائیں، چین-پاکستان تعاون اور گہرا ہو، اور چین کے جنگی طیاروں کا ذخیرہ بڑھ جائے… اسے ’مکمل طور پر کامیاب‘ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ دراصل ’اسٹریٹجک کارروائی‘ اور اس کے ’اسٹریٹجک نتائج‘ کے درمیان فرق کو لے کر ایک انتباہ ہے۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو اب یہ لگنے لگا ہے کہ کشیدگی کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان نے ایک نئی معمول کی صورتحال کا اعلان کیا ہے جس میں دہشت گردی کو جنگی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ فوری جوابی کارروائی سے بحران بین الاقوامی سطح پر پھیل سکتا ہے اور مداخلت کے لیے مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ دونوں فریقوں کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ جوہری خطرے کی آڑ میں ڈرون، میزائل، دور تک مار کرنے والے اسلحوں اور مواصلاتی جنگ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے اگلے تصادم کا امکان کم ہو جاتا ہے اور گھریلو تقسیم پسند قوم پرستی میں پھنسے رہنماؤں کے لیے فیصلہ لینے کا وقت اور کم ہو جاتا ہے۔

اس لیے ’آپریشن سندور‘ کو ایک فاتحانہ نظریے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے ’اسٹریس ٹیسٹ‘ کے طور پر یاد کیا جانا چاہیے، جسے ہندوستان مکمل طور پر قابو نہیں کر پایا۔ اس نے خفیہ معلومات، فضائی جنگ کی تیاری، اسٹریٹجک مواصلات اور سفارتی پیش بینی میں موجود سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا۔ اس نے یہ دکھایا کہ چین کوئی دور کی تیسری پارٹی نہیں ہے، بلکہ ایک فعال ’فورس ملٹی پلائر‘ (طاقت بڑھانے والا عنصر) ہے۔ اس نے یہ بھی دکھایا کہ ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی افادیت کے مقابلے میں ہندوستان کی حساسیت کو زیادہ ترجیح دے گا۔ سب سے بڑھ کر، اس نے یہ ثابت کیا کہ صرف نمائشی سختی اپنانے سے اسٹریٹجک طور پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک سال بعد بھی جنگ بندی قائم ہے، لیکن باقی سب کچھ مستحکم نہیں ہے۔ سندھ طاس معاہدہ معطل ہے، سفارت کاری ٹھپ ہے، اور دونوں فریقوں کے عوامی ذہن میں فوجی رجحان کا جذبہ اور بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ مودی آپریشن سندور کے ذریعے ہندوستان کو ایک بے لگام علاقائی طاقت کے طور پر قائم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے، اس نے ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ طاقت کی پیمائش پہلے حملہ کرنے کے حوصلے سے نہیں ہوتی، بلکہ حملے کے بعد ہونے والے واقعات کو شکل دینے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔ اس معاملے میں مودی کی اس مہم جوئی نے پاکستان کو ایک بیانیہ، چین کو ایک بازار، ٹرمپ کو ایک اسٹیج اور جنوبی ایشیا کو ایک زیادہ خطرناک مستقبل دے دیا۔




Leave a Reply