اس کے بعد سے نیپال میں عام تاثر یہی رہا کہ ہندوستان نے ناکہ بندی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نیپال کو مجبور کیا کہ وہ اپنے نئے آئین میں مدھیسی طبقے کی خواہشات کو شامل کرے۔ ہندوستانی فوج میں گورکھا جوانوں کی بھرتی کم کرنے اور اس کے بجائے ’اگنی پتھ یوجنا‘ اختیار کرنے کے مشورے نے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کی۔
نیپال کے اندر اس معاملے پر رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیپال اب بھی ایندھن، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کے لیے بڑی حد تک ہندوستان پر منحصر ہے۔ دوسری طرف نیپال میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور اپنے اس چھوٹے پڑوسی کے تئیں ہندوستانی رویے، جس کا اظہار اکثر سوشل میڈیا پر بھی ہوتا ہے، نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیپال میں بعض حلقوں کی جانب سے امریکہ کے کسی فوجی یا دیگر اڈے کے قیام کی مانگ بھی سنائی دینے لگی ہے۔
فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بالین شاہ، اپنی مدھیسی پس منظر اور ہندوستان سے تاریخی قربت کے باوجود، لپولیکھ کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
(سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد مصنف اور مبصر ہیں)
