خطبۂ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے آخری اور ابدی پیغام – تحریر : ابوسلمان محمد قاسم
.
خطبۂ حجۃ الوداع صرف ایک خطبہ نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ وہ عظیم پیغام ہے جو رحمتِ عالم ﷺ نے میدانِ عرفات میں لاکھوں جان نثار صحابۂ کرامؓ کے مجمع کے سامنے ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں انسانیت، مساوات، عدل، اخوت، عورتوں کے حقوق، امانت و دیانت اور اللہ کی بندگی کا ایسا جامع درس موجود ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج جب دنیا ظلم، نفرت، تعصب اور بے سکونی کا شکار ہے، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک بار پھر اس عظیم پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبے کا آغاز انتہائی درد بھرے انداز میں فرمایا کہ شاید آئندہ سال وہ اپنے صحابہؓ کے درمیان موجود نہ ہوں۔ یہ الفاظ صرف ایک اعلان نہ تھے بلکہ امت کے لیے ایک جذباتی وصیت تھے۔ آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں، کیونکہ ممکن ہے بعد میں آنے والے لوگ اس پیغام کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
آپ ﷺ نے سب سے پہلے انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت کو بیان فرمایا۔ جس طرح مکہ مکرمہ، ذوالحجہ کا مہینہ اور یومِ عرفہ قابلِ احترام ہیں، اسی طرح ہر مسلمان کی جان، عزت اور مال بھی محترم ہے۔ گویا اسلام نے انسانی حقوق کا وہ عظیم منشور پیش کیا جس کی مثال دنیا کے کسی نظام میں نہیں ملتی۔ آج اگر مسلمان اسی ایک تعلیم پر عمل کر لیں تو معاشرے سے ظلم، قتل، لوٹ مار اور فساد کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے امانتوں کی ادائیگی اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا کہ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچاؤ اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ یہ تعلیم دراصل ایک پُرامن اور انصاف پر مبنی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، نہ کہ ان کے لیے تکلیف اور نقصان کا سبب بنے۔
رسول اکرم ﷺ نے سود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان فرمایا۔ آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ جاہلیت کے تمام سودی معاملات آج میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ اسلام کا معاشی نظام عدل، ہمدردی اور پاکیزہ رزق پر قائم ہے، جبکہ سود انسان کے اندر بے رحمی، لالچ اور استحصال پیدا کرتا ہے۔ آج دنیا کے معاشی بحران اس بات کا ثبوت ہیں کہ سودی نظام انسانیت کو سکون نہیں دے سکتا۔
آپ ﷺ نے عورتوں کے حقوق کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ تمہارے عورتوں پر حقوق ہیں اور ان کے تم پر حقوق ہیں۔ ان کے ساتھ نرمی اور بھلائی کا معاملہ کرو، کیونکہ وہ تمہاری شریکِ حیات اور زندگی کی ساتھی ہیں۔ یہ وہ تعلیم ہے جس نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ عطا کیا۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو صدیوں تک دنیا کے کسی معاشرے نے نہیں دیا تھا۔
پھر آپ ﷺ نے انسانیت کو پاکیزگی اور عفت کا درس دیتے ہوئے زنا سے بچنے کی تاکید فرمائی، اور اللہ کی عبادت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی پابندی کا حکم دیا۔ گویا بندگیِ رب ہی انسان کی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔
خطبے کا سب سے عظیم اور انقلابی حصہ وہ تھا جب نبی کریم ﷺ نے رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے تمام تعصبات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ یہ اعلان دراصل انسانی مساوات کا عالمی منشور تھا۔ آج دنیا نسل پرستی اور تعصب کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، جبکہ اسلام چودہ سو سال پہلے ہی انسانوں کو برابری کا سبق دے چکا ہے۔
پھر آپ ﷺ نے امت کو خبردار فرمایا کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا، اور یہ بھی اعلان فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے دو عظیم چیزیں امت کے حوالے کیں: قرآنِ کریم اور اپنی سنتِ مبارکہ۔ فرمایا کہ جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔
آخر میں آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا:
“اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔”
یہ الفاظ سن کر صحابۂ کرامؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ گویا نبوت کا مشن اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خطبۂ حجۃ الوداع کو صرف پڑھنے یا سننے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ اگر ہم انسانی احترام، عدل، اخوت، امانت، پاکیزگی اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنالیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگیاں سنور جائیں گی بلکہ پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کے اس عظیم پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے پوری دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
