آپریشن شروع ہونے سے پہلے ووہان اور حیدر آباد کے ڈاکٹرس نے آن لائن مریض کی میڈیکل رپورٹس کا مشترکہ تجزیہ کیا۔ اس کے بعد روبوٹک آرمس کی موومنٹ سے متعلق پورا منصوبہ تیار کیا گیا۔


i
تکنیک اور علم طب کے اشتراک نے ایک بار پھر ایسا کارنامہ کر دکھایا ہے، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ چین کے ووہان میں موجود ہندوستانی یورولوجسٹ ڈاکٹر سید محمد غوث نے حیدر آباد میں موجود ایک مریض کا آپریشن روبوٹ کی مدد سے کیا۔ خاص بات یہ رہی کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تقریباً 3000 کلومیٹر کی دوری تھی۔
موصولہ اطلاع کے مطابق یہ یوریٹرل ری-امپلانٹیشن سرجری تھی، جس میں یوریٹر (کڈنی سے یورِن بلیڈر تک لے جانے والی نلی) کو دوبارہ بلیڈر سے جوڑا گیا۔ یہ آپریشن چین میں تیار روبوٹک تکنیک اور ہائی اسپیڈ 5 جی انٹرنیٹ کی مدد سے کیا گیا۔ پورا آپریشن تقریباً 90 منٹ تک چلا۔ اس دوران ووہان کے ٹونگجی ہاسپیٹل اور حیدر آباد کی میڈیکل ٹیم کے درمیان لگاتار کوآرڈنیشن بنا رہا۔
اس حصولیابی کو ہندوستان میں چینی سفارت خانہ کی ترجمان یو جنگ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستانی یورولوجسٹ ڈاکٹر سید محمد غوث نے ووہان میں بیٹھ کر حیدر آباد کے مریض کی صرف 90 منٹ میں روبوٹ اسسٹیڈ سرجری کامیابی کے ساتھ پوری کی۔‘‘ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ووہان اور حیدر آباد کے ڈاکٹرس نے آن لائن مریض کی میڈیکل رپورٹس کا مشترکہ تجزیہ کیا۔ اس کے بعد روبوٹک آرمس کی موومنٹ سے متعلق پورا منصوبہ تیار کیا گیا۔ حیدر آباد میں موجود میڈیکل اسٹاف نے مریض کو انستھیسیا دیا اور آپریشن تھیٹر میں روبوٹک سسٹم کو تیار کیا۔
اس روبوٹک سسٹم میں بے حد باریک سرجیکل شئے اور ہائی ڈیفنیشن 3 ڈی کیمرہ لگے تھے، جو حیدر آباد سے لائیو تصویریں ووہان بھیج رہے تھے۔ ڈاکٹر غوث ووہان کے ٹونگجی ہاسپیٹل میں ایک کنٹرول کنسول پر بیٹھے تھے، جہاں سے انھوں نے پورے آپریشن کے دوران روبوٹک آرمس (بازو) کو کنٹرول کیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 5 جی نیٹورک کی مدد سے ڈاکٹر کی ہدایت صرف 200 ملی سیکنڈ یعنی 0.2 سیکنڈ کے اندر حیدر آباد پہنچ رہے تھے۔ اتنی کم دیر کی وجہ سے روبوٹک آرمس تقریباً اسی وقت ڈاکٹر کے ہاتھوں کی حرکتوں کو دہرا پا رہے تھے۔ یہی وجہ رہی کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھنے کے باوجود سرجری کے دوران مستعدی اور کنٹرول بنائے رکھا جا سکا۔

