تریشور سے تعلق رکھنے والی کانگریس رہنما سویا جوزف کا ماننا ہے کہ ستیسن نے خود کانگریس کے اندر اعتماد کی بحالی کا کام کیا۔ ان کے مطابق، ’’مسلسل شکستوں کے بعد بہت سے کارکن ذہنی طور پر ہار مان چکے تھے۔ ستیسن نے اس ماحول کو مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے جماعت کو یہ یقین دلایا کہ بقا کے لیے اتحاد، واضح سمت اور جدوجہد کا جذبہ ناگزیر ہے۔‘‘ شاید یہی ستیسن کے سیاسی سفر کا بنیادی مفہوم بھی ہے۔
وہ کیرالہ کے اعلیٰ ترین منصب تک کسی ہموار سیاسی سرپرستی کے نظام کے ذریعے نہیں پہنچے بلکہ ان کا سفر ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے، جسے نظر انداز کیے جانے، تاخیر، ثابت قدمی اور بار بار سنبھلنے کے مراحل نے تشکیل دیا۔ اچوتانندن کی طرح انہوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ سیاسی دیانت نظریاتی اختلافات کے باوجود احترام حاصل کر سکتی ہے۔ اومن چانڈی کی طرح انہوں نے لوگوں تک آسان رسائی کو اپنی شناخت بنایا اور اچوتا مینن کی طرح سنجیدہ فکری اور انتظامی سیاست کے لیے شہرت حاصل کی۔
لیکن بنیادی طور پر ستیسن کی سیاسی طاقت قانون سازی کی سیاست ہی سے ابھری؛ تحقیق، دلائل، جمہوری تصادم اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے۔ ایک ایسی ریاست کے لیے جو اپنے سیاسی شعور اور فکری بیداری پر فخر کرتی ہے، شاید یہی ان کے سفر کی سب سے اہم بات ہے۔
