’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ چل رہی موجودہ فوجی کارروائی میں صف اوّل محاذ پر تعینات خاتون امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔


i
ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی خاتون فوجیوں کی موت اور زخمی ہونے کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ اس خبر نے پنٹاگون کے اندر ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی ’میموریل ڈے‘ پر شہید فوجیوں کے کنبوں نے خاتون فوجیوں کی ہلاکت پر گہرے غم کا بھی اظہار کیا ہے۔ اہل خانہ نے جذباتی ہو کر کہا کہ کئی بچوں کو اپنی ماں کے بغیر بڑا ہونا پڑے گا۔
’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ فوجی جنگ میں صف اول محاذ پر تعینات خاتون امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک فرنٹ لائن پر 13 امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں 3 خاتون فوجی بھی شامل ہیں۔ جاری امریکہ-ایران جنگ میں مجموعی جنگی اموات میں خواتین کی شراکت داری بڑھ کر 23 فیصد اور زخمیوں میں 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ قبل کے عراق اور افغانستان جنگ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ جنگوں میں خاتون فوجیوں کے متاثر ہونے کی تعداد محض 2 فیصد کے آس پاس ہوا کرتی تھی۔
’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ذریعہ تقریباً ایک دہائی قبل خواتین کے لیے سبھی جنگی اور فرنٹ لائن عہدوں کو آفیشیل طور پر کھولنے کا تاریخی فیصلہ لیا گیا تھا۔ اسی پالیسی پر مبنی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں خاتون فوجی سیدھے جنگ کے میدانوں اور فرنٹ لائن حفاظتی محاذ پر اپنی خدمات دے رہی ہیں۔
بہرحال، ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ٹیکنیکل سارجنٹ ایشلے پروئیٹ، ماسٹر سارجنٹ نکول امور اور میجر ایریانا سیوینو کی جان چلی گئی تھی۔ ٹیکنیکل سارجنٹ ایشلے پرویٹ کی موت مارچ کے ماہ میں عراق کے اوپر امریکی فضائیہ کے 2 کے سی-135 ریفیولنگ طیاروں کی آپس میں ہوئی ٹکر کے سبب ہوئی تھی۔ دوسری طرف ماسٹر سارجنٹ نکول امور کی موت جنگ کے ابتدائی مرحلہ کے دوران کویت میں موجود ایک امریکی فوجی ٹھکانہ پر ہوئے ایرانی ڈرون حملے کی زد میں آنے سے ہوئی تھی۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ذریعہ بڑے پیمانے پر کیے جا رہے ڈرون اور طویل دوری کی خطرناک میزائلوں کے حملوں نے جنگ کی نوعیت کو بدل دیا ہے۔ ان جدید اسلحوں کے سبب مشرق وسطیٰ میں واقع امریکہ کا تقریباً ہر فوجی اڈہ اب براہ راست طور پر فرنٹ لائن ٹارگیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں بچی ہے۔

