مئی 2026 تک وہ تقریباً چھ برس جیل میں گزار چکے تھے۔ مقدمے میں سیکڑوں گواہوں کے بیانات ابھی باقی تھے۔ ٹرائل جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں تھا۔ عدالت نے انہیں ضمانت دے دی لیکن معاملہ صرف ایک ضمانت تک محدود نہیں رہا۔ فیصلے میں بنچ نے تفصیل سے بتایا کہ تین رکنی بنچ کے فیصلے کی قانونی اہمیت کو بعد کے کم تعداد والے عدالتی فیصلوں میں کس طرح محدود کیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کے اے نجیب فیصلہ اب بھی قابل عمل قانونی اصول ہے۔ اگر کوئی کم تعداد والی بنچ اس سے اختلاف رکھتی ہے تو اسے خود تشریح بدلنے کے بجائے معاملہ بڑی بنچ کے سامنے بھیجنا چاہیے۔ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا یہی ہے۔
عدالت نے اس دوران سرکاری اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔ پارلیمان میں پیش معلومات کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان ملک بھر میں تقریباً دس ہزار پانچ سو افراد یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہوئے جبکہ سزا پانے والوں کی تعداد صرف چند سو رہی۔ کئی علاقوں میں شرح سزا ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
