بندر کیا جانے ادرک کا سواد!… پربھات سنگھ

بندر کیا جانے ادرک کا سواد!… پربھات سنگھ


کشی نگر والوں نے کیلے حال میں ہی اگانے شروع کیے ہیں۔ کیلے کے چپس کب ان کی پہچان بن گئے، زمانے کو خبر ہی نہیں ہوئی۔ گورکھپور میں کوئی لٹی-چوکھا یا سموسہ مشہور ہے، یہ تو لٹی-مٹن کے شوقین گورکھپوری بھی شاید نہ مانیں۔ ویسے بھی، وہ تو دھرم شالہ پل کے قریب ملنے والی امرتی، چوری چورا کے لہسن والے چھولے اور شہر بھر میں ملنے والے ستّو کے شربت پر ہی فدا ہیں۔ نام درج کرنے سے پہلے مصاحبوں یا ان کے کارکنوں نے قنوج اور جونپور کے گٹّے چکھ کر بھی دیکھ لیے ہوتے اور اپنی زبان کو ہی بھروسے کے لائق مان لیتے تو لسٹ کی صورت کچھ اور ہوتی۔ ویسے آپ کو لگتا ہے کہ آگرے کا پیٹھا، بنارس کے پان، پنڈرا کا گلاب جامن، میرٹھ کی گجک-ریوڑی، ہاپوڑ کے پاپڑ، ہاتھرس کی ربڑی، پرتاپ گڑھ کے آملے، بلیا کے ستّو، فرخ آباد کی دالموٹ، رامپور کے حبشی حلوے، جونپور کی امرتی، تِلہر کی لَونج یا بدایوں کے پیڑے کو مقبول ہونے کے لیے سرکاری امداد کی ضرورت ہے؟ تمام شہروں کے خاص ذائقے کو عوام نے پہلے سے ہی مقبول بنا رکھا ہے۔ آپ للت پور کے نام باجرے کی روٹی درج کر لو، مگر سالن کیا ہوگا، یہ تو عوام ہی طے کرے گی نا!

آپ اگر ’ایک ضلع، ایک پیداوار‘ کے نتائج سے واقف ہیں تو پھر رام چڑیا، رام کے کھیت… گنگنائیے، سوشل میڈیا کے اس ہنگامے میں کچھ نہیں دھرا ہے۔



Leave a Reply