انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کی’ایکس‘ رسائی، یوٹیوب ویوز اور انسٹاگرام فالورز سبھی کو محدود کردیا گیا ہے۔ سری وتس نے کہا کہ اس طرح ہندوستان کے اپوزیشن لیڈر کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ ان دعووں پر صفائی دیتے ہوئے ایم ای آئی ٹی وائی کے ذرائع نے کہا کہ کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی کچھ پوسٹس کو وزارت کی جانب سے بلاک کر دیا گیا تھا۔ وزارت کے ایک ذریعہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم کے داخلی نظام کی غلطی سے پوسٹ کو بلاک کرنے کے لیے نشان زد کرنے کی وجہ سے ہوا تھا، جسے اب بحال کردیا گیا ہے۔
