ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کچھ گھنٹوں کے اندر 20 سے زائد تصویریں پوسٹ کیں، جن میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی تصویریں دکھائی گئی ہیں۔


i
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چین کے دورہ سے واپسی کے بعد ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ انداز میں بیان بازی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ خلیجی خطے کا ایسا نقشہ پیش کیا ہے جس میں امریکی پرچم اور دھماکوں کی تصویریں موجود ہیں۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد کشیدگی مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ پوسٹ اس لیے بھی تشویش پیدا کرنے والا ہے، کیونکہ گزشتہ روز ہی ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے جلد امن معاہدہ کی سمت میں قدم بڑھانا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیان بازیوں نے خلیجی ممالک میں فکر کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر امریکی صدر کے ذریعہ یکے بعد دیگرے کئی ’اے آئی جنریٹیڈ‘ تصویریں شیئر کی گئی ہیں، جس سے نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے چند گھنٹوں کے اندر ہی 20 سے زائد تصویریں پوسٹ کی ہیں، جن میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان تصویروں میں سب سے زیادہ گفتگو اس تصویر پر ہو رہی ہے، جس میں ایران کا نقشہ دکھایا گیا ہے، اور اس کے اوپر امریکی پرچم لگا ہوا ہے۔ تصویر میں چاروں طرف سے ایران کی طرف تیر بھی دکھائے گئے ہیں۔ اس پوسٹ کو ٹرمپ کی طرف سے ایران کو براہ راست تنبیہ کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے ذریعہ شیئر کردہ دوسری تصویروں میں امریکی ڈرون کو ایرانی تیز رفتار کشتیوں پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک تصویر کے ساتھ ’بائے بائے، فاسٹ بوٹس‘ کیپشن بھی لکھا گیا تھا۔ ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں امریکی جنگی جہاز کو ایرانی طیارہ کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ٹرمپ خود بھی نظر آئے، جہاں وہ ٹیبل پر ٹیپ کرتے ہوئے ’با با با… فائر، بوم‘ کہتے دکھائی دیے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے ’اسپیس فورس‘ کیپشن والی ایک تصویر بھی پوسٹ کی، جس میں انھیں خلا میں سیٹلائٹس کے درمیان دکھایا گیا ہے۔ ایک دیگر تصویر میں وہ اسپیس کرافٹ کے کنٹرول بٹن کو دباتے نظر آئے، جبکہ پیچھے میزائل حملوں اور دھماکہ جیسی تصویر دکھائی دے رہی تھی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

