چند ہفتے پہلے میں نے ڈیلفی اکنامک فورم میں حصہ لیا اور مجھ سے خلیج اور وسیع مشرقِ وسطیٰ میں فروری میں آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ جغرافیائی سیاسی صورت حال کے نتیجے کی پیشگوئی کرنے کے لیے کہا گیا۔
میں نے جواب دیا کہ یہ تجزیہ کرنا کہ یہ مخصوص جنگ کیا رخ اختیار کرے گی، جس نے دنیا کو حیران کر دیا، یا اس میں شامل فریقین کی اگلی چال کا اندازہ لگانا ،خاص طور پر ایسے غیر متوقع کردار جیسے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اتنا مشکل ہے کہ اس یونانی شہر میں کبھی موجود مشہور پیشگو (اوریکل) بھی ہار مان لیتا۔
صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنانے والی چیز متضاد خبروں کی بھرمار ہے، جن میں تصدیق اور تردید شامل ہیں، اور ساتھ ہی بے شمار لیکس بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں سے کچھ درست ثابت ہوئیں جبکہ کچھ مکمل طور پر غلط نکلیں۔
لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ایک جنگ ہے، اور جنگ میں سب سے پہلے جو چیز متاثر ہوتی ہے وہ اکثر سچائی ہوتی ہے۔
تاہم جب سعودی مؤقف کو سمجھنے کی بات آتی ہے تو ماہرین کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے چند اہم نکات ذہن میں رکھنے چاہئیں۔
سب سے پہلے، سعودی حکام جو کہتے ہیں وہی ان کا مطلب ہوتا ہے اور وہ اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہیں۔
دوسرا، جو بات عوامی سطح پر کہی جاتی ہے وہی نجی سطح پر بھی کہی جاتی ہے (گذشتہ 10 برسوں کے دوران کئی آف دی ریکارڈ بریفنگز میں شرکت کے بعد میں اس بات کی مکمل تصدیق کر سکتا ہوں)۔
تیسرا، بعض اوقات، خاص طور پر حساس حالات میں، خاموشی ایک حکمت عملی ہوتی ہے، کوئی اتفاق نہیں خصوصاً جب حالات نہایت نازک ہوں اور پس منظر میں بہت سی پیچیدہ سرگرمیاں جاری ہوں۔
اسی لیے حالیہ پیش رفت کے حوالے سے سعودی مؤقف کو سمجھنے کے لیے ہمیں جنگ کے ابتدائی دنوں میں جاری کیے گئے بیانات کی طرف واپس جانا ہوگا۔
ان میں وزارتِ خارجہ کے بیانات اور 10 مارچ کو ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے فیصلے شامل ہیں، جن میں سعودی عرب کے اس ’مکمل حق‘ کا اعادہ کیا گیا کہ وہ اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرے گا۔
کچھ لوگوں نے اس مؤقف کو محض رسمی بیان قرار دیا، جبکہ کچھ نے ریاض پر ’حد سے زیادہ نرم‘ ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عوامی رائے کو مطمئن کرنے کے لیے زیادہ سخت مؤقف اپنانا چاہیے تھا۔
تاہم ریاض نے فیصلہ کیا کہ عوام کی حفاظت، عوامی رائے سے زیادہ اہم ہے، اور اس نے ایسے بیانات کو نظرانداز کرنے کا انتخاب کیا اور یہ فیصلہ درست تھا، کیونکہ آج کے سوشل میڈیا کے ماحول میں، جہاں ہر چیز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ایسے لوگوں سے بحث کرنا ’کسی سور کے ساتھ کشتی لڑنے جیسا ہے آپ خود گندے ہو جاتے ہیں جبکہ سور اس سے لطف اٹھاتا ہے۔‘
پس منظر میں، میں تصور کرتا ہوں کہ حکمتِ عملی کچھ اس طرح طے کی گئی ہوگی: سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ ہر ممکن قدم اٹھا کر مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اُن ہمسایہ ممالک کی مدد کی جائے جو زیادہ خطرے میں تھے، اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جنگ پھیل کر ایک طویل اور خطرناک علاقائی تصادم نہ بن جائے (جو کہ ایران اور اسرائیل امریکہ جنگ کے برعکس ہوتا)۔
اس کے ساتھ ساتھ، جنگ کے دوران ایران کے خلاف مؤثر روک تھام (ڈیٹرنس) قائم کرنا بھی ضروری تھا، جبکہ اسی وقت مذاکرات کے ذریعے حل کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ محسوس ہو رہا تھا کہ فوجی کارروائی کا زیادہ نقصان خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی فراہمی کو ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صورت حال ایک عالمی بحران میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
ایران پہلے ہی یہ واضح کر چکا تھا کہ خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے، وہ اس جنگ کو باقی دنیا کے لیے بہت مہنگا بنانا چاہتا ہے۔
اگر خلیجی ممالک مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتے تو اس سے امریکہ اور اسرائیل کے لیے کوئی خاص فرق نہ پڑتا، کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی بڑی فوجی طاقت موجود ہے (اور وہ زمینی فوج تعینات کرنے سے گریز کرتے ہیں)، لیکن اس سے تیل کی تنصیبات اور سب سے بڑھ کر سعودی عرب اور خلیج میں عام شہری اہداف کے لیے خطرہ مزید بڑھ جاتا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک عالمی توانائی بحران نہ صرف امریکہ کو داخلی طور پر متاثر کرتا بلکہ اس کی جنگی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتا، اور ہمارے خطے پر اس کے اثرات تو اس کے علاوہ ہوتے ہی۔
یقیناً حکومتیں مختلف طریقوں سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتی ہیں۔ اگر یہ تمام طریقے صرف سرکاری پریس ریلیز تک محدود ہوتے تو ایک اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر میرا کام کہیں زیادہ آسان ہو جاتا۔ تاہم بعض اوقات عمل، الفاظ سے زیادہ واضح پیغام دیتے ہیں۔
درحقیقت ایک علامتی لیکن حکمتِ عملی پر مبنی اقدام جیسے ایرانی سفیر کو ریاض میں موجود رہنے کی اجازت دینا جبکہ فوجی اتاشی کو واپس جانے کا کہنا، خود ایک پیغام سمجھا جانا چاہیے، خاص طور پر جب اس کے ساتھ پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کی کھلی اور مکمل حمایت بھی موجود ہو۔
اس کے علاوہ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان مسلسل رابطوں نے اس بات کو ظاہر کیا کہ رابطے کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔
یقیناً ریاض طویل عرصے سے ایرانی حکومت کے منفی عزائم سے آگاہ ہے اور 1979 سے اب تک اس کے خطرات کا مقابلہ کرتا آ رہا ہے۔
اسی لیے وہ ایسے کسی بھی عملی اور منطقی طریقۂ کار کو خوش آمدید کہے گا جو ان خطرات کو کمزور یا ختم کر سکے، جبکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ایران ہمیشہ ایک ہمسایہ ملک رہے گا، اور کسی غلط قدم کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے ایک مضبوط دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ اگر امریکہ نے ایک دہائی پہلے ہماری وارننگز پر توجہ دی ہوتی، جب صدر براک اوباما جے سی پی او اے (یعنی ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ) پر مذاکرات کر رہے تھے، تو ہم آج اس صورت حال میں نہ ہوتے۔
اگر اس وقت امریکی انتظامیہ ہماری بات مان لیتی اور صرف ایران کے جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ اس کی پراکسی ملیشیاؤں کی حمایت اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شاملِ بحث لاتی، تو موجودہ بحران کو روکا جا سکتا تھا۔
اسی بنیاد پر میں حالیہ میڈیا رپورٹس کو بھی ممکن سمجھتا ہوں، اگرچہ ابھی تک سعودی حکام نے ان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، کہ مملکت نے حالیہ ہفتوں میں خاموشی سے ایران اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کے خلاف عراق میں کارروائی کی۔
یقیناً یہ اقدامات امریکہ اور اسرائیل کی فوجی مہم کے حصے کے طور پر نہیں کیے گئے ہوں گے، بلکہ یہ سعودی عرب کے خلاف پہلے کیے گئے ایرانی حملوں کے جواب میں اور تہران کو روکنے کی ایک کوشش کے طور پر کیے گئے ہوں گے جس نے 2023 کے بیجنگ معاہدے کی پہلے خلاف ورزی کی۔
تاہم میرا اندازہ ہے کہ سعودی جوابی کارروائی سے پہلے ایرانی حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہوگا، کیونکہ سعودی طرزِ عمل اور اصول یہی تقاضا کرتے ہیں کہ جنگی کارروائیوں میں شہریوں کو ہر ممکن حد تک نقصان سے بچایا جائے اور قواعد کی پابندی کی جائے۔
اسی طرح فنانشل ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ، جس میں کہا گیا ہے کہ مملکت نے ایران کے ساتھ ایک علاقائی غیر جارحانہ معاہدہ تجویز کیا ہے، اسے میں جزوی طور پر درست سمجھتا ہوں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنگ کے بعد کے دور کے لیے علاقائی مکالمے کی راہ ہموار کرنا جس میں ایسے معاہدے بھی شامل ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر کئی تجاویز میں سے ایک ہے جن پر غور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ مذاکرات میں ان سکیورٹی معاملات پر کوئی واضح بات چیت نظر نہیں آتی۔
یہ نقطۂ نظر معقول محسوس ہوتا ہے، کیونکہ پُرامن بقائے باہمی سب کے مفادات کے لیے مفید ہے، خاص طور پر سعودی عرب کے لیے۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس وقت ریاض ان میں سے کسی حل کو ’آگے بڑھا‘ رہا ہے؛ میرا خیال ہے کہ اس کے بجائے تمام آپشنز پہلے شراکت داروں کے ساتھ زیرِ بحث لائے جائیں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عدم جارحیت کے معاہدے کا خیال کوئی نیا نہیں ہے اور اسے مختلف فریقین کی جانب سے پہلے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ یہ بات درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے گا۔
جہاں تک موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ ریاض کا رجحان واضح طور پر جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہے۔
جب یہ مقصد حاصل ہو جائے، تو ایران کے ساتھ دیگر خدشات اور خطرات پر بات چیت جلد دوبارہ شروع ہونی چاہیے، چاہے وہ ہیلسنکی عمل کے انداز میں ہو یا کسی اور متفقہ طریقے سے۔
فیصل جے عباس عرب نیوز کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ X: @FaisalJAbbas


