لکھنؤ سول کورٹ میں وکلاء کے غیر قانونی چیمبروں پر چلا بلڈوزر، علاقہ چھاؤنی میں تبدیل

لکھنؤ سول کورٹ میں وکلاء کے غیر قانونی چیمبروں پر چلا بلڈوزر، علاقہ چھاؤنی میں تبدیل


بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں کورٹ کے احاطے سے لے کر رجسٹری آفس تک سڑک اور نالے پر بنے قریب 240 غیر قانونی وکلاء کے چیمبروں اور دکانوں کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>لکھنؤ سول کورٹ میں بلڈوزر کارروائی (ویڈیو گریب)</p></div><div class="paragraphs"><p>لکھنؤ سول کورٹ میں بلڈوزر کارروائی (ویڈیو گریب)</p></div>

i

user

google_preferred_badge

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے قیصر باغ میں واقع ضلع اور سول کورٹ احاطہ میں اتوار کی صبح میونسپل کارپوریشن نے ایک بڑی بلڈوزر کارروائی کو انجام دیا۔ بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں کورٹ کے احاطے سے لے کر رجسٹری آفس تک سڑک اور نالے پر بنے قریب 240 غیر قانونی وکلاء کے چیمبروں اور دکانوں کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

یہ پوری کارروائی الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی جانب سے انورادھا سنگھ کی عرضی پر دی گئی سخت ہدایت کے بعد کی گئی ہے۔ ان غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے کورٹ کے آس پاس کا راستہ پوری طرح بند ہو رہا تھا۔ میونسپل کارپوریشن نے 12 مئی کو ہی ان غیر قانونی ڈھانچوں پر لال نشان (کراس مارک) لگا کر 16 مئی تک ہٹانے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ چونکہ اتوار (17 مئی) کو کورٹ کی چھٹی رہتی ہے اور بھیڑ کم ہوتی ہے، اس لیے انتظامیہ نے آج کا دن تجاوزات کے خاتمے کی مہم  کے لیے منتخب کیا۔

واضح رہے کہ صبح 9 بجے میونسپل کارپوریشن کی ٹیم کئی جے سی بی مشینوں اور بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچی اور انہدامی کارروائی شروع کردی۔ اس کارروائی سے وکلاء میں شدید ناراضگی اور غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ وکلاء کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے انہیں مناسب وقت نہیں دیا اور بیٹھنے کا کوئی دوسرا متبادل فراہم کیے بغیر ہی ان کے چیمبر توڑ دیے۔ موقع پر وکلاء کے شدید احتجاج کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسران صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک، فٹ پاتھ، نالے اور نالیوں پر قبضہ کر کے کئی جگہوں پر وکلاء کے چیمبر اور فوٹو کاپی کی دکانیں بنا لی گئی تھیں۔ اس سے عام لوگوں کو آنے جانے میں پریشانی ہو رہی تھی۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو نوٹس جاری کر کے قبضہ ہٹانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ نوٹس ملنے کے بعد کچھ لوگوں نے خود ہی اپنے قبضے ہٹا لیے، لیکن بڑی تعداد میں اب بھی تعمیرات موجود تھیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Leave a Reply