راہل گاندھی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں ذمہ داری نہیں ہوتی، صرف جعل سازی کا ایک طے فارمولہ ہے۔ پہلے طویل خاموشی، پھر گنہگاروں کو تحفظ، پھر سوال پوچھنے والوں پر حملہ۔‘‘


i
’’مودی حکومت اور این ٹی اے کی ناکامی سے نیٹ کا پیپر لیک ہو گیا، جس کے سبب لاکھوں طلبا ذہنی تناؤ سے نبرد آزما ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ حکومت کے بدعنوان سسٹم کی وجہ سے کچھ طلبا نے اپنی جان دے دی، جو مودی حکومت کے تعلیمی نظام پر داغ ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر دیا ہے، کیونکہ نیٹ پیپر لیک کے بعد بھلے ہی حکومت نے از سر نو امتحان لینے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس سے طلبا شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے تو اپنے ایک بیان میں نیٹ پیپر لیک کو طلبا پر ظلم قرار دیا ہے۔ پیپر لیک کے خلاف کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں کینڈل مارچ بھی نکالا۔ اس دوران ذہنی دباؤ کے سبب مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکا رام جولی نے پیپر لیک کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے پرانے وعدے کی یاد دلائی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’نریندر مودی نے راجستھان میں کہا تھا، میں نوجوانوں کا مستقبل برباد نہیں ہونے دوں گا۔ انھوں نے نوجوانوں سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ لیکن جب نیٹ کا پیپر لیک ہو گیا، بچے خودکشی کر رہے ہیں، تب نریندر مودی ایک لفظ نہیں بول رہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی مدت کار میں لگاتار پیپر لیک ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ لیا جانا چاہیے۔ اس پیپر لیک کے معاملے میں بی جے پی لیڈران پکڑے گئے ہیں۔ شروع میں تو راجستھان پولیس اس معاملے میں ایف آئی آر تک درج نہیں کر رہی تھی اور اسے دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘
انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کے صدر اودے بھانو چِب نے بھی طلبا کی خودکشی معاملہ پر اپنے شدید غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے سبب گزشتہ 24 گھنٹے میں 4 سے زیادہ طلبا نے خودکشی کی ہے۔ یہ خودکشی نہیں، ادارہ جاتی قتل ہیں۔ جس کی ذمہ دار بی جے پی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر نریندر مودی میں تھوڑی سی بھی اخلاقیات ہے تو انھیں دھرمیندر پردھان کو فوراً عہدہ سے دستبردار کر دینا چاہیے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ مل کر پیپر لیک کرواتے ہیں اور پیسہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے نیٹ کے امیدواروں سے گزارش بھی کی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کے والدین کو تکلیف پہنچے۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی لگاتار نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ پر وزیر اعظم مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے آج سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ ڈالی ہیں، جن میں سے ایک میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں ذمہ داری نہیں ہوتی، صرف جعل سازی کا ایک طے فارمولہ ہے۔ پہلے طویل خاموشی، پھر گنہگاروں کو تحفظ، پھر سوال پوچھنے والوں پر حملہ۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’نیٹ پیپر لیک ہوا، ایک بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ 2024 میں این ٹی اے ڈائریکٹر جنرل کو ’ہٹایا‘، اب وزیر اعلیٰ کا چیف سکریٹری بنا دیا۔ یہ حکومت جوابدہی لینے والی نہیں، جوابدہی سے دور بھاگنے کی مشین ہے۔‘‘
اس درمیان راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے بیان میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبا میں موجود غصہ کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ کچھ سالوں میں نیٹ کے پیپر لگاتار لیک ہوئے ہیں۔ اس کے خلاف بہت غصہ ہے، لیکن بی جے پی حکومت اسے سمجھ نہیں رہی ہے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ناقابل لوگوں کو عہدوں پر بٹھا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ دھرمیندر پردھان کو اس ناکامی کے لیے فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو نریندر مودی کو انھیں اپنی کابینہ سے برخاست کر دینا چاہیے۔‘‘
اشوک گہلوت نے پیپر لیک معاملہ میں راہل گاندھی کے ذریعہ دیے گئے بیان کا ذکر بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جی نے بار بار کہا ہے کہ حکومت کو اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا، تاکہ ایسا پھر کبھی نہ ہو۔ لیکن راہل گاندھی کی بات کو سنجیدگی سے نہ لینے کا خمیازہ آج طلبا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ پر لگاتار آواز بلند کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھی مانگ رہے ہیں، لیکن اس بارے میں نہ تو وزیر اعظم نے ابھی تک کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی اپوزیشن لیڈران کے بیان پر وزیر تعلیم کوئی رد عمل دے رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

