وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب بیجنگ میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈا کے اجرا کی تقریب میں شرکت کے لیے چین روانہ ہو گئے۔
پاکستان پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ کے ذریعے چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اور گہری کیپیٹل مارکیٹس میں شمار ہوتی ہے۔
پانڈا بانڈ کا یہ اجرا پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے ملک اپنی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
پاکستان اب روایتی مالیاتی ذرائع کے ساتھ ساتھ مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پانڈا بانڈ کے ذریعے پاکستان پہلی بار چینی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرے گا، جو پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
پانڈا بانڈ پروگرام کا مجموعی حجم ایک ارب امریکی ڈالر رکھا گیا ہے، جب کہ ابتدائی اجرا 250 ملین امریکی ڈالر کے مساوی ہوگا۔ اس اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کی معاونت حاصل ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف پاکستان کی معاشی ساکھ میں بہتری کی عکاس ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام، اصلاحاتی ایجنڈے اور معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں برآمدات، ترسیلاتِ زر اور معاشی اشاریوں میں مثبت بہتری نے پاکستان کی معیشت کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی ہے۔
چین اور پاکستان کی دوستی ہمیشہ باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون اور عوامی روابط کی مضبوط بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جب کہ سی پیک سمیت مختلف منصوبوں نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ پانڈا بانڈ کا اجرا اس دیرینہ دوستی کو مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
بیجنگ میں منعقد ہونے والی تقریب میں چین کے اعلیٰ حکومتی و مالیاتی اداروں، بین الاقوامی مالیاتی تنظیموں، سرمایہ کاروں اور بینکنگ شعبے کے نمائندگان شرکت کریں گے۔ تقریب میں چین کی وزارتِ خزانہ، پیپلز بینک آف چائنا، ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن (CICC)، بینک آف چائنا، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، ہونگٹا سیکیورٹیز اور دیگر نمایاں ادارے شریک ہوں گے۔
تقریب کے دوران پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر خصوصی پریزنٹیشن بھی دی جائے گی، جب کہ وفاقی وزیرِ خزانہ تقریب سے خطاب میں پاکستان کی معاشی بحالی، اصلاحاتی اقدامات، سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور مستقبل کے اقتصادی وژن پر روشنی ڈالیں گے۔ تقریب میں چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ کے دورۂ چین کے دوران مختلف سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور چینی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور مستقبل کے مالیاتی اشتراک پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ چینی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے تاکہ پاکستان کی معاشی پیش رفت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں
