کوئٹہ و اندرون بلوچستان ‘ شدید گرمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی – Daily Qudrat

کوئٹہ و اندرون بلوچستان ‘ شدید گرمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی – Daily Qudrat


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہنے کے باعث نہ صرف معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پانی کی شدید قلت نے بھی عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔شدید گرمی کے باعث شہری دن بھر گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہیں جبکہ بازاروں، تجارتی مراکز اور سڑکوں پر معمول کے مقابلے میں رش کم دکھائی دے رہا ہے۔ شہر میں ٹریفک کی روانی بھی معمول سے کم ریکارڈ کی جا رہی ہے کیونکہ شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی مسلسل بندش کے باعث گھروں میں پنکھے، کولر اور دیگر برقی آلات بند پڑے ہیں جس سے گرمی کی شدت مزید ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے اور شہری پینے کے پانی کیلئے دربدر پھرنے پر مجبور ہیں۔کوئٹہ کے مختلف رہائشی علاقوں شالدرہ‘مدرسہ روڈ‘ کلی درانی‘ نواں کلی‘لہڑی گیٹ‘ سریاب روڈ، ہزارہ ٹاؤن، اسپنی روڈ، پشتون آباد، جناح ٹاؤن، بروری روڈ ‘جان محمد روڈ سمیت دیگر علاقوں میں شہریوں نے پانی کی قلت اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں روزانہ 10 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جس کے باعث پانی کے ٹیوب ویل بھی بند ہو جاتے ہیں اور گھریلو زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔شدید گرمی سے سب سے زیادہ خواتین، بچے اور بزرگ متاثر ہو رہے ہیں۔ گھروں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بزرگ افراد کو سانس لینے میں دشواری، بے چینی اور مختلف طبی مسائل کا سامنا ہے جبکہ چھوٹے بچے گرمی کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ خواتین نے شکایت کی ہے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو امور کی انجام دہی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔شہر کے مختلف اسپتالوں میں بھی گرمی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر موسمی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ گرمی اور بجلی کی طویل بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو شدید گرمی میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے شہری زندگی اور بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔



Leave a Reply