جعلی حکومت سے کہہ دیجیے عمران خان سے ہماری ملاقات کب ہو گی، اسمبلی چلنے دیں گے نہ بجٹ میں حصہ لیں گے، محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں تقریر ‘ ڈپٹی اسپیکر نے مائیک بند کردیا – Daily Qudrat

جعلی حکومت سے کہہ دیجیے عمران خان سے ہماری ملاقات کب ہو گی، اسمبلی چلنے دیں گے نہ بجٹ میں حصہ لیں گے، محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں تقریر ‘ ڈپٹی اسپیکر نے مائیک بند کردیا – Daily Qudrat


کوئٹہ /اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پچھلے اجلاس جمعے کے دن آپ چیئر پر تھے۔ ہم نے آپ سے ایک مؤدبانہ گزارش کی تھی، بڑے نرم الفاظ میں۔ کہ عمران خان کو ان کے ذاتی مالیجین اور خاندان کے ہمراہ شفا ہسپتال منتقل کیا جائے، انتہائی نرم الفاظ میں آپ سے استدعا کی تھی پہلا یہ کہ اپنی اس جعلی حکومت سے کہہ دیجیے کہ عمران خان سے ہماری ملاقات کب ہو گی۔ دوسری بات کہ عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہے ان کو اپنے خاندان سمیت ذاتی مالجین کی موجودگی میں شفا ہسپتال فی الفور منتقل کیا جائے یہ انسانی مسئلہ ہے۔ ہم اس طرح اس پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھیں گے۔ نہ ہم بجٹ میں حصہ لیں گے، نہ آپ کی اسمبلی چلنے دیں گے اگر آپ یہ نہیں کریں گے۔ ہم ابھی بائیکاٹ کر کے نکل جاتے ہیں۔
مزید برآں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے اپوزیشن چیمبر قومی اسمبلی میں قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکلاء اور پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء نے اہم ملاقات کی۔ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات اور قانونی امور پر مشاورت کی۔ وکلاء نے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات بالخصوص القادر کیس، میڈیکل درخواستوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم انتہائی مشکور ہیں عمران خان کے وکلاء کے جو کیسز میں مصروف ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں عمران خان کی ملاقات پہ پابندی۔ میں بار بار یہ گھسے پٹے فقرے استعمال کرتا ہوں، دنیا میں کہیں بھی بدترین قاتل، بدترین ڈاکو، بدترین خطرناک آدمی کی ملاقات پہ پابندی نہیں ہوتی۔ عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی نہ پلس ملزم سے مل سکتا ہے، نہ وہ میڈیکل ٹیسٹ کرا سکتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں لے آتے ہیں پمز (PIMS) ہسپتال۔ اب پمز ہسپتال کیا ہے؟ کہ جی فلانے ہسپتال، اسی اسلام آباد میں فلانے ہسپتال میں لے جائیے، وہ فلانے ڈاکٹر سے دکھلائیے۔ اس سب پہ پابندی ہے۔ اب ہم مزید اس پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیں گے جب تک عمران خان کو ان کے ذاتی مالجین اور فیملی کی موجودگی میں علاج نہیں کروایا جاتا۔ ملاقات میں سینیٹر حامد خان سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، اسد قیصر سابق سپیکر قومی اسمبلی، سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف، بیرسٹر گوہر خان چیئرمین پاکستان تحریک انصاف، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر، عزیر کرامت بھنڈاری سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (بذریعہ فون کال)، سردار لطیف کھوسہ ایم این اے، ڈاکٹر بابر اعوان سابق سینیٹر، حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری وکیل عمران خان قائد پاکستان تحریک انصاف موجود تھے۔



Leave a Reply