آزاد کشمیر سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے جہاں الیکشن کمیشن نے 42 میں سے 33 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔ ذرائع کے مطابق اب صرف 9 سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر انتخابات 2026 میں حصہ لینے کی اہل ہوں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے احکامات اور الیکشن ایکٹ 2020 کی روشنی میں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ متعدد جماعتیں مقررہ قانونی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہیں جس کے باعث ان کی رجسٹریشن ختم کی گئی۔
رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی جمعیت اہلحدیث آزاد جموں و کشمیر، صدائے حق پارٹی آزاد جموں و کشمیر، جماعت فلاح انسانیت آزاد جموں و کشمیر، جموں و کشمیر لبریشن لیگ اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی بھی رجسٹرڈ جماعتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن درخواست 16 مئی کو مسترد کر دی گئی تھی، جس کے بعد پارٹی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کے لیے 2 لاکھ روپے فیس سمیت مختلف قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ کئی سیاسی جماعتوں کی درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں کیونکہ مطلوبہ دستاویزات اور شرائط مکمل نہیں کی جا سکیں۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو آئندہ انتخابات کے لیے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ مختلف جماعتوں کی جانب سے قانونی اور سیاسی مشاورت بھی جاری ہے۔
