پاکستان نے تقریباً دو دہائیوں بعد ایک بار پھر پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے، جسے ملکی توانائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کیے گئے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تین سالہ لائسنس مدت کے دوران تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ اگلے مرحلے میں ڈرلنگ تک پیش رفت ہونے پر یہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے ملحق انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں مختلف بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں۔ آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت مجموعی طور پر 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل 23 بلاکس کی منظوری دی گئی۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدے حکومت کی توانائی پالیسی میں تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے اور توانائی کے مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آف شور ایکسپلوریشن کی بحالی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، جبکہ شفاف پالیسیوں اور نئے آف شور پیٹرولیم رولز سے سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں سیسمک ڈیٹا، جیولوجیکل اور جیو فزیکل اسٹڈیز کی جائیں گی، جبکہ مثبت نتائج کی صورت میں آئندہ مرحلے میں سمندر میں ایکسپلوریشن کنویں کھودے جائیں گے۔
