پاکستان اور چین نے منگل کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر نیا وسیع اتفاق رائے کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے چار روزہ بیجنگ کے سرکاری دورے کے اختتام پر جاری اس اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے چین – پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ’اعلیٰ معیار کی ترقی‘ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ملکوں نے سی پیک کی ترقی میں دیگر فریقوں کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے تحت ’چین – پاکستان مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی‘ کو آگے بڑھانے کے لیے نیا پانچ سالہ ایکشن پلان (2025-2029) منظور کیا گیا۔
چین – پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ پر اتفاق
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’چین نے پاکستان کی قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی قومی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی۔‘
اعلامیے کے مطابق ’چینی فریق نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو (GSI) کو مکمل طور پر نافذ کرنے، چین-پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے، دوطرفہ اور کثیرالجہتی انسداد دہشت گردی تعاون جاری رکھنے اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
’پاکستانی فریق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ سکیورٹی اقدامات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہدفی اقدامات کرے گا تاکہ پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
’چین نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور مضبوط جدوجہد کی حمایت بھی کی۔
’دونوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے تعاون کو بڑھایا جائے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ انسداد دہشت گردی پر دوہرا معیار اپنانے یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سخت مخالفت کی جائے گی۔
’پاکستانی فریق نے اپریل 2026 میں چین کے شہر اُرومچی (صوبہ سنکیانگ) میں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو مثبت قرار دیا اور چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے لیے مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کا خیرمقدم کیا۔
’دونوں ممالک نے افغانستان کے مسئلے پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘
اس کے علاوہ ’دونوں فریقین نے زور دیا کہ کسی بھی فرد، گروہ یا جماعت، بشمول تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کو علاقائی سلامتی اور مفادات کو نقصان پہنچانے یا دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے کسی بھی علاقے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
سی پیک 2.0 اور معاشی تبدیلی
دورے کا مرکز سی پیک 2.0 تھا، جو چین – پاکستان اقتصادی راہداری کا جدید ورژن ہے۔
یہ منصوبہ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے اور پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی منصوبہ (اُڑان پاکستان) کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے گوادر بندرگاہ کو علاقائی رابطے کا مرکز بنانے اور قراقرم ہائی وے کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بیجنگ میں صدر شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بیجنگ میں چین کے صدر شی جنپنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔
ملاقات… pic.twitter.com/9vz7doa9bt
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 25, 2026
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ معاشی تعاون اب صنعتی ترقی تک وسیع ہو گا، جس میں ٹیکسٹائل اور گھریلو آلات کے لیے خصوصی صنعتی پارکس قائم کیے جائیں گے۔
مزید برآں، دونوں ممالک نے معدنیات، تیل اور گیس کی تلاش میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا، جو رواں سال کے آغاز میں منعقدہ پہلے معدنی تعاون فورم کی کامیابی کے بعد ہے۔
خلائی اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت
پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے تاریخی اعلان میں چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کو تربیت دینے اور ایک پاکستانی کو چین سپیس سٹیشن بھیجنے کا عزم کیا۔
یہ سائنسی شراکت داری ڈیجیٹل میدان تک بھی پھیلی، جہاں پاکستان نے چین کی تجویز کردہ عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کی حمایت کی۔
اعلامیے کے مطابق چین نے آئندہ پانچ سالوں میں پاکستانی ماہرین کے لیے تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
سفارتی ہم آہنگی اور کشمیر
اعلامیے کے مطابق جغرافیائی سیاست میں پاکستان نے ون-چائنا اصول کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور تائیوان کو چین کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے ’تائیوان کی آزادی‘ کی ہر شکل کی مخالفت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان نے چین کے سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین کے مؤقف کی بھی حمایت کی۔
اس کے جواب میں چین نے پاکستان کی خودمختاری اور جموں و کشمیر تنازعے پر اس کے مؤقف کی حمایت کی۔
چین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل ہونا چاہیے۔
چین نے پاکستان کی آئندہ ذمہ داریوں میں بھی تعاون کا وعدہ کیا، جن میں ایس سی او کی صدارت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت (2025-2026) شامل ہیں۔
علاقائی ثالثی
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا، جس میں چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی میں اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔
دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن کی بحالی کے اقدامات پر زور دیا۔
دورہ متعدد تجارتی، توانائی اور زرعی معاہدوں پر دستخط کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جو آئندہ دہائی کے لیے ’چٹان جیسی مضبوط‘ دوستی کا واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔
