پاکستان سمیت مسلم ممالک کم از کم بیک وقت ابراہم معاہدے میں شامل ہوں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کے تناظر میں ابراہم معاہدے کو مزید وسعت دینے کی تجویز دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد مسلم ممالک پر اس میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا: ’ایران کے ساتھ مذاکرات نہایت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، یہ صرف ایک عظیم معاہدہ ہوگا جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگا، یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں دوبارہ جنگی محاذ اور لڑائی کی طرف جانا پڑے گا، جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور سخت ہوگی اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘
انہوں نے مزید لکھا: ’میں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زید آل نہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی، وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم بن جابر آل ثانی اور وزیر علی الثوادی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کی جانب سے اس انتہائی پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کے بعد یہ لازمی ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان معاہدوں میں شامل ممالک کو معاشی، سماجی اور مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں اور ان کی توسیع سے مشرق وسطیٰ میں ’امن، طاقت اور استحکام‘ کو فروغ مل سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچتا ہے تو اسے بھی اس وسیع تر علاقائی فریم ورک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں ایک ’غیر معمولی اتحاد‘ قائم ہو سکتا ہے۔
امریکہ ایران بحران میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر چین کے شکر گزار ہیں: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو امریکہ ایران بحران میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت پر چینی صدر شی جن پنگ اور بیجنگ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارت کاری کے نتیجے میں خطے میں امن کی بحالی کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں اپنی سفارتی کوششوں کو چین کے ساتھ مزید ہم آہنگ کیا ہے، جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد کی ثالثی کوششوں کا ایک اہم حامی بن کر سامنے آیا ہے۔
اس بحران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کیا ہے، جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور چین یہاں سے ایندھن خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
پاکستان اور چین نے جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی امن تجویز پیش کی ہے جس میں جنگ بندی، مذاکرات، شہری اور جوہری تنصیبات کا تحفظ، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری شامل ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں چینی ہم منصب لی چیانگ کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ’دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ خلیج میں بحران ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے نہایت مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
امریکہ – ایران معاہدے پر معاملات آگے بڑھ رہے ہیں: پاکستان
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو امید ظاہر کی کہ ’امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
چین کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی خطہ اس جنگ کے باعث بحران کا شکار ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ’مخلصانہ کردار‘ ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ دونوں جانب کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا ’ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا اور اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے؛ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر چین کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
’ہمیں واقعی ایک ساتھ ہونا ہوگا تاکہ دنیا میں امن قائم ہو اور معمول کی سرگرمیاں بحال ہوں کیونکہ یہ بحران نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کر رہا ہے۔‘
’فوری معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہیے‘
ایران نے کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ’یہ کہنا درست ہے کہ زیر بحث کئی اہم امور پر ہم ایک نتیجے تک پہنچ چکے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے واضح کیا ’یہ کہنا کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں، ایسی بات کا اس وقت کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔‘
اسماعیل بقائی نے امریکہ پر مؤقف تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کے دوران اپنی پوزیشن بار بار بدل رہا ہے، جس سے پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔
معاہدہ آج ہو سکتا ہے: روبیو
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ ’آج‘ طے پا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا ’ہمیں لگا تھا شاید گذشتہ رات کچھ خبر مل جائے، ممکن ہے آج مل جائے لیکن میں اس پر زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔‘
انہوں نے انڈین دارالحکومت سے روانگی کے موقعے پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور اسے دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس ایک کافی مضبوط تجویز موجود ہے۔‘
روبیو نے کہا ’اسے (تجویز) خلیجی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ہم نے جس بھی ملک کے ساتھ اس پر بات کی، سب سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف بہت معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست قدم بھی ہے۔‘
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایران جوہری معاملے پر ’حقیقی، اہم اور وقت کی حد کے ساتھ مذاکرات‘ میں شامل ہو گا۔
انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا ’وہ جلدی میں نہیں ہیں، وہ کوئی برا معاہدہ نہیں کریں گے اور صدر بھی کوئی خراب معاہدہ نہیں کریں گے۔‘
معاہدے کے بارے میں ’نہ کوئی جانتا ہے، نہ کسی نے دیکھا‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے ممکنہ معاہدے کے بارے میں ’نہ کوئی جانتا ہے نہ کسی نے دیکھا ہے۔‘
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہا ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ’اوباما کے کیے گئے معاہدے جیسا نہیں، جس نے ایران کو بھاری مقدار میں نقد رقم دی اور اسے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ’ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے لیکن کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ یہ ابھی مکمل طور پر طے بھی نہیں پایا۔
’لہٰذا ان ہارنے والوں کی بات نہ سنیں جو ایک ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔‘
ٹرمپ نے گذشتہ امریکی صدور اور انتظامیہ کا حوالہ دیتا ہوئے کہا کہ ’مجھ سے پہلے جو لوگ تھے، انہیں یہ مسئلہ کئی سال پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، لیکن میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘
