فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟

فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟


فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف تین ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ 11 جون سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے مقابلے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلے جائیں گے۔

یہ پہلا موقع ہے جب ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ تو کیوں نہ اس تاریخی ورلڈ کپ کو جیتنے کے بڑے دعویداروں پر ایک نظر ڈالی جائے۔

فرانس

رینکنگ میں عالمی نمبر ایک اور دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی فرانس کی ٹیم گذشتہ سات ایڈیشنز میں دو بار فائنل پینلٹی پر ہار چکی ہے۔

یہ ٹورنامنٹ طویل عرصے سے کوچنگ کرنے والے ڈیڈیئر ڈیشامپ کے لیے آخری ہوگا، جو 2012 سے ٹیم کے انچارج ہیں۔

فرانس نے مارچ میں برازیل کو 2-1 سے شکست دی، پھر بالکل مختلف ابتدائی لائن اپ کے ساتھ کولمبیا کو 3-1 سے ہرایا۔ دونوں میچ امریکہ میں کھیلے گئے۔

گذشتہ جون سے فرانس نو میچوں میں ناقابلِ شکست ہے اور ان کے پاس نہایت خطرناک اٹیک موجود ہے، جس میں موجودہ بیلن ڈور فاتح عثمان ڈیمبیلے، کلین ایمباپے، مائیکل اولیسے اور رایان چرکی شامل ہیں۔

انہیں روکنا آسان نہیں ہوگا۔

سپین

یورپی چیمپیئن سپین نے یورو 2024 جیتنے کے بعد سے کوئی میچ نہیں ہارا۔ لوئس ڈی لا فوینتے کی ٹیم ایک مکمل متوازن مشین کی طرح کھیل رہی ہے، جس کا نمایاں ستارہ نوجوان سپر سٹار لامین یامال ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم 18 سالہ بارسلونا ونگر اس وقت ہیم سٹرنگ انجری کا شکار ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ گروپ مرحلے کے پہلے دو میچز سے باہر رہ سکتے ہیں۔

ان کے بارسلونا ساتھی فرمن لوپیز بھی پاؤں کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث مکمل ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں جبکہ آرسنل کے یکل مرینو، جنہوں نے 2025 میں سپین کے لیے 10 میچوں میں 8 گول کیے، جنوری سے انجری کے باعث نہیں کھیل سکے۔

اس کے باوجود ان کے پاس اب بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جیسے روڈری اور پیڈری۔

ارجنٹینا

لیونل سکالونی کی ارجنٹینا 2022 میں جیتا گیا ٹائٹل برقرار رکھنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔

وہ ٹورنامنٹ لیونل میسی کے کیریئر کا سب سے بڑا لمحہ تھا اور اب جبکہ وہ اگلے ماہ 39 سال کے ہونے جا رہے ہیں، ان کے لیے ویسی ہی کارکردگی دہرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تاہم میسی اب امریکہ کو مکمل طور پر گھر جیسا محسوس کرتے ہیں اور انہوں نے اس سال انٹر میامی کے لیے 13 ایم ایل ایس میچوں میں 12 گول کیے ہیں۔

ارجنٹینا نے امریکہ میں ہونے والا 2024 کوپا امریکہ بھی جیتا اور جنوبی امریکی کوالیفائنگ میں آسانی سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

میسی کے علاوہ ٹیم کے پاس لاوتارو مارٹینیز، جولین الواریز اور نیکو پاز جیسے باصلاحیت اٹیکنگ کھلاڑی بھی موجود ہیں۔

انگلینڈ

گیرتھ ساؤتھ گیٹ کے دور میں کئی بار قریب پہنچ کر ناکامی کے بعد، انگلینڈ اب جرمن کوچ تھامس ٹوخیل سے 1966 کے بعد پہلا بڑا ٹائٹل جیتنے کی امید رکھتا ہے۔

انگلینڈ نے آسانی سے کوالیفائی کیا، مگر کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔ مارچ میں انہوں نے یوراگوئے سے ڈرا کیا اور جاپان سے دوستانہ میچ ہار گئے۔

جوڈ بیلنگھم اور کول پالمر کے سیزن بھی زیادہ ہموار نہیں رہے۔

تاہم انگلینڈ کو امید ہوگی کہ ہیری کین اپنی شاندار فارم برقرار رکھیں گے، جنہوں نے بائرن میونخ کے لیے اس سیزن میں 58 گول کیے ہیں۔

پرتگال

پرتگال، جو کبھی سیمی فائنل سے آگے نہیں جا سکا، اس بار سنجیدہ امیدوار سمجھا جا رہا ہے، بشرطیکہ کرسٹیانو رونالڈو کی حد سے زیادہ اثر انداز موجودگی ٹیم پر بوجھ نہ بن جائے۔

41 سال کی عمر میں یہ ان کا چھٹا ورلڈ کپ ہوگا، مگر ٹیم کی اصل طاقت ان کا مڈفیلڈ ہے، جس میں وٹینیا، جواو نیویس، برنارڈو سلوا اور برونو فرنینڈیز شامل ہیں۔

گذشتہ سال یوئیفا نیشنز لیگ جیتنے کے باوجود پرتگال کوالیفائنگ میں کچھ لڑکھڑا گیا، خاص طور پر آئرلینڈ کے خلاف شکست میں جب رونالڈو کو ریڈ کارڈ ملا۔

برازیل

نئے کوچ کارلو اینچلوتی کے تحت برازیل کی پیشرفت دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

برازیل کا ایک اطالوی کوچ کی طرف جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیم اس وقت اپنی فٹبال شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔

اینچلوتی نے نیمار کو سکواڈ میں شامل کیا ہے، حالانکہ 34 سالہ نیمار 2023 کے بعد سے قومی ٹیم کے لیے نہیں کھیلے۔ وہ اس وقت سانتوس کے لیے کھیل رہے ہیں۔

اب ونیسیئس جونیئر برازیل کے اٹیک کے مرکزی رہنما ہیں۔

2002 میں پانچواں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد برازیل صرف ایک بار سیمی فائنل تک پہنچا، جب 2014 میں میزبان ہونے کے باوجود جرمنی نے انہیں 7-1 سے شکست دی تھی۔

اینچلوتی نے کہا: ’ورلڈ کپ کوئی مکمل ٹیم نہیں جیتتی، کیونکہ مکمل ٹیم وجود ہی نہیں رکھتی۔ یہ ٹورنامنٹ وہ ٹیم جیتے گی جو سب سے زیادہ مضبوط اعصاب رکھتی ہو۔‘

جرمنی

جولین ناگلزمن کی ٹیم رینکنگ میں نیدرلینڈز، مراکش اور بیلجیئم سے بھی پیچھے ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ جرمنی 2014 کے بعد پہلا ورلڈ کپ جیت سکے گا۔

جرمنی 2018 اور 2022 میں گروپ مرحلے سے باہر ہو گیا تھا، جبکہ یورو 2024 میں میزبان ہونے کے باوجود کوارٹر فائنل میں شکست کھا گیا۔

اس کے باوجود جوشوا کیمِش، فلوریان ورٹز اور کائی ہیورٹز جیسے کھلاڑی جرمنی کو اب بھی خطرناک ٹیم بناتے ہیں۔





Leave a Reply