پاکستان کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ، ایران میں براہ راست مذاکرات ہوئے: شہباز شریف

پاکستان کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ، ایران میں براہ راست مذاکرات ہوئے: شہباز شریف


وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور 47 سال بعد دونوں ممالک براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو کوئٹہ کے دورے کے دوران کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے خطاب میں کہی۔

پاکستان نے فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے تنازع میں اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا ہے جسے صدر ٹرمپ، ایرانی حکام اور دیگر ممالک نے سراہا۔

انہی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کے نام سے بات چیت کا پہلا براہ راست دور ہوا تھا اور دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے منگل کو کہا کہ ’صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور اپنے عزیز بھائی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری درخواست کا مثبت جواب دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ’11 اپریل کو ہونے والے تاریخی اسلام آباد مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 47 سال میں پہلی براہ راست اعلی سطحی بات چیت تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر انہوں نے افغانستان اور انڈیا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ’ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، افغان طالبان رجیم کو دہشت گرد گروپوں بشمول ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی اور بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے جو افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت قومی دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔

’میں ایک مضبوط، پرامن، خوشحال اور ترقی کرتے پاکستان کا خواب دیکھتا ہوں، ایک ایسا پاکستان جو انشا اللہ سخت محنت اور انتھک جدوجہد سے جلدہی معاشی طاقت بن جائے، ہمارا خواب ایک ایسی معیشت ہے جو برآمدات، جدت ،صنعت ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے بل بوتے پر چلے۔‘

انڈیا سے گذشتہ سال مئی میں ہوئے تنازع پر شہباز شریف نے کہا کہ ’ایک سال قبل پاکستان کو انڈین جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر پاکستان نے ایسا جواب دیا جس نے انڈیا کو ’ناقابلِ فراموش سبق‘ سکھایا، اور اب کوئی دشمن پاکستان کی طرف بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا۔‘





Leave a Reply