آلو پر مبنی خوراک نے نسلوں تک لوگوں کی جینیات کو کیسے بدلا؟

آلو پر مبنی خوراک نے نسلوں تک لوگوں کی جینیات کو کیسے بدلا؟


اینڈیز کے مقامی لوگوں نے 6,000 سے 10,000 سال پہلے آلو کو گھریلو استعمال کے قابل بنایا۔ یہ سبزی نشاستہ، وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور ہے۔

یہ ان کی خوراک کا مرکزی حصہ بن گئی۔ اس طویل استعمال کی وجہ سے ان کے جسم میں جینیاتی تبدیلیاں آئیں۔ یہ تبدیلیاں آج بھی ان کی پیرو میں رہنے والے نسلوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

نئی جینومک تحقیق بتاتی ہے کہ ان نسلوں میں، جو تاریخی انکا سلطنت کی کیچوا زبان بولتے ہیں، اے ایم وے ون  جین میں مضبوطی آئی۔ یہ جین نشاستہ ہضم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔ آلو پر مبنی خوراک کے لیے یہ جین بہت فائدہ مند ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینڈیز کے لوگوں میں AMY1 جین کی اوسطاً 10 کاپیاں موجود ہیں، جو عام لوگوں سے دو سے چار زیادہ ہیں۔

یہ تعداد دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ جینیاتی تبدیلیاں بالکل اسی وقت شروع ہوئیں جب آلو کو گھریلو استعمال کے قابل بنایا گیا۔

جنرنل نیچر کمیونیکشنز میں رواں ہفتے شائع ہونے والی اس تحقیق کے سینیئر مصنف اور یونیورسٹی آف بفیلو کے ماہر جینیات عمر گوککومن کہتے ہیں کہ: ’یہ ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح ثقافت حیاتیات کو بدلتی ہے۔‘

ایک اور سینیئر مصنف یوسی ایل اے کی ماہر جینیات ابیگیل بگھم نے کہا کہ ‘یہ انسانی ارتقائی تاریخ میں خوراک کے مطابق ڈھلنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جس کے اثرات میٹابولزم، صحت اور گھریلو فصلوں کے انسانی حیاتیات پر پڑنے والے اثرات سے جڑے ہیں۔‘

مالیکیولر سطح پر AMY1 جین ایک انزائم امیلیز کو کنٹرول کرتا ہے، جو لعاب میں موجود ہوتا ہے اور نشاستہ کو توڑنے کا کام کرتا ہے۔ زیادہ کاپیاں رکھنے والے افراد زیادہ انزائم بنا سکتے ہیں، جس سے نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ زیادہ مقدار میں AMY1 جین کی موجودگی نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس جین سے بننے والا انزائم امیلیز لعاب میں موجود ہوتا ہے اور نشاستہ کو منہ میں ہی توڑنا شروع کر دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ انزائم جسم کے مائیکرو بایوم کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جو خوراک کے بدلنے سے تبدیل ہوتا ہے۔ خوراک سے جڑی ارتقائی تبدیلی کی ایک اور مثال لیکٹوز ٹالرنس ہے، جو دودھ میں موجود لیکٹوز کو توڑنے والے انزائم سے جڑی ہے۔

اس نئی تحقیق میں 3,700 سے زیادہ افراد کے جینومک ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کی 85 آبادیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں پیرو کے 81 مقامی کیچوا بولنے والے بھی شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ارتقائی قوتوں نے اینڈیز کے لوگوں میں AMY1 کی زیادہ کاپیاں رکھنے کو ترجیح دی۔

کسی جینیاتی تبدیلی کے عام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ فائدہ دے۔

یونیورسٹی آف بفیلو کی محقق لوانے لینڈاؤ نے کہا کہ ’ایک خیال یہ ہے کہ زیادہ کاپیاں رکھنے والے افراد آلو سمیت نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کر سکتے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 لینڈاؤ کا کہنا ہے کہ ’جن افراد میں جین کی زیادہ کاپیاں تھیں، انہیں ان افراد کے مقابلے میں برتری حاصل تھی جن کے پاس یہ نہیں تھیں، اور انہوں نے اس وقت کے دوران زیادہ اولاد چھوڑی۔

’وقت کے ساتھ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زیادہ AMY1 کاپیاں رکھنے والا جینیاتی ورژن آج اینڈیز کی آبادی میں زیادہ عام کیوں ہو گیا۔‘

آلو ایک قابلِ اعتماد خوراک کا ذریعہ تھے، ایسی فصل جو ان بلند پہاڑی علاقوں میں پھلتی پھولتی تھی جہاں یہ لوگ رہتے تھے۔

یونیورسٹی آف بفیلو کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ کینڈرا شیر کا کہنا ہے کہ ’وہ (آلو) قدیم اینڈیز کی خوراک میں کیلوریز کے اہم ذرائع میں سے ایک تھے۔‘

آلو انکا سلطنت کی خوراک کا مرکزی حصہ تھے۔ سپین کے انکا سلطنت پر قبضے کے بعد 16ویں صدی میں آلو یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں لے جائے گئے۔

ابیگیل بگھم نے کہا کہ ’آلو کا دنیا بھر میں پھیلاؤ ان کی وسیع مقبولیت کا ثبوت ہے۔‘

اینڈیز کے پہاڑی بازاروں اور پیرو کے دیگر علاقوں میں کیچوا بولنے والے لوگ آلو کی بے شمار اقسام فروخت کرتے ہیں۔

 ان آلوؤں کا گودا مختلف رنگوں میں ہوتا ہے، جن میں جامنی، نیلا، سرخ، سنہری، سفید اور حتیٰ کہ سیاہ بھی شامل ہیں۔

کینڈرا شیر کا کہنا ہے کہ’پیرو میں تقریباً 3,000 سے 4,000 مختلف اقسام کے آلو ہیں، لیکن دنیا کے زیادہ تر حصے میں صرف چند اقسام دستیاب ہیں۔ اس لیے فرنچ فرائز کی بے شمار اقسام ممکن ہیں۔‘





Leave a Reply