
یہ ایک کلاس روم ہے جس میں میزیں، کرسیاں اور تقریباً 20 طلبہ موجود ہیں جو بڑی توجہ سے اپنے انسٹرکٹر کو سن رہے ہیں۔ تاہم، یہاں پڑھائے جانے والے اسباق قدرے مختلف ہیں یعنی خلیجی ممالک کے قوانین، ثقافت اور رسم و رواج کا احترام کرنا اور وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ کیسے گھلنا ملنا۔
ہر سال لاکھوں پاکستانی ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں کے طور پر بیرون ملک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان جیسے خلیجی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ یہ کارکن اپنی آمدنی کا ایک حصہ پاکستان میں اپنے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں، جو حکومت کے لیے زرمبادلہ کا ایک قیمتی ذریعہ ہے۔
تاہم، پاکستان کی حکومت ان کارکنوں کو تربیت دینے اور انہیں ایسی سافٹ سکلز سے لیس کرنے کے لیے کوئی پروگرام پیش نہیں کرتی جو ان خلیجی ممالک میں پہنچنے کے بعد انہیں ثقافتی جھٹکے کے اثرات سے بچا سکے۔
اس کے نتیجے میں نجی ریکروٹرز نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ یہ ریکروٹرز بیرون ملک نوکریاں حاصل کرنے والے پاکستانیوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرتے ہیں کہ آن لائن کیسا رویہ اختیار کرنا ہے، مقامی قوانین اور رسم و رواج کا احترام کیسے کرنا ہے، اور خلیجی ممالک میں کام کی جگہ کی توقعات کے مطابق خود کو کیسے ڈھالنا ہے۔
ریکروٹمنٹ فرم جان محمد اینڈ سنز کے چیئرمین عصام بیگ نے بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ آج کل ہماری پاکستانی افرادی قوت، خاص طور پر خلیجی ممالک جانے والے افراد کو سوشل میڈیا کے استعمال، سوشل میڈیا کی ذمہ داری، اور وہاں میزبان ملک کے قواعد و ضوابط کے بارے میں تربیت دینا بہت ضروری ہے۔‘
’اور ساتھ ہی ساتھ، انہیں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کا سفر کرتے وقت لگنے والے ثقافتی شاک کو کم کرنے کے لیے سافٹ سکلز کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔‘
سافٹ سکلز وہ ذاتی خصوصیات، سماجی مہارتیں اور بات چیت کے طریقے ہیں جو کسی شخص کو دوسروں کے ساتھ موثر اور ہم آہنگی سے پیش آنے کے قابل بناتے ہیں۔
ریکروٹرز پاکستانی کارکنوں کو خلیجی ممالک میں لاگو ہونے والے قوانین سے آگاہ کرتے ہیں اور بیرون ملک پاکستان کے تشخص کو بچانے کے لیے انہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔
جان محمد اینڈ سنز افرادی قوت بیرون ملک بھیجنے والی پاکستان کی قدیم ترین کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ کمپنی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے یہ تعارفی سیشن اب ان کی جانب سے بھرتی کیے گئے کارکنوں کی روانگی سے قبل کی تیاری کا ایک باقاعدہ حصہ ہیں۔
کمپنی نے کارکنوں کی سافٹ سکلز نکھارنے کے لیے انہیں تربیت فراہم کرنے کے بعد سعودی عرب، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھرتی کر کے بھیجا ہے۔
انتہائی احتیاط
زیر تربیت افراد میں زیادہ تر مزدور اور تکنیکی کارکن شامل ہیں۔ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن اور بریفنگ کے ذریعے، انہیں عام معاملات کے بارے میں محتاط کیا جاتا ہے یعنی ذاتی صفائی، کام کی جگہ کا نظم و ضبط، سوشل میڈیا کے آداب، اور مختلف صنفوں اور مختلف قومیتوں کے ساتھیوں کے ساتھ احترام سے پیش آنے کا طریقہ۔
جان محمد اینڈ سنز میں ملازمت کرنے والے ٹرینر عبید طارق اپنے طلبہ کے لیے پیغام کو سادہ رکھتے ہیں، خاص طور پر جب بات سوشل میڈیا کے استعمال کی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو سوشل میڈیا پر کچھ بھی پوسٹ کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی ہوگی۔ کوئی بھی فالتو چیز پوسٹ نہ کریں اور منفی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔ آپ جس ملک میں ہیں اس کا اور اس کے قوانین کا احترام کریں۔‘
عبید طارق نے کہا کہ اس کا مقصد کارکنوں کو ان ثقافتی حساسیتوں کے لیے تیار کرنا ہے جن کا انہیں پاکستان میں سامنا نہ ہوا ہو۔
انہوں نے کہا: ’اس وقت یہ تعارفی سیشن مکمل طور پر ثقافت کا احترام کرنے اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہ کرنے کے بارے میں ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو ان امیدواروں کو ابھی سکھائی گئی ہے۔‘
پاکستان کے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کے مطابق، پاکستان نے 2025 میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں کل سات لاکھ 63 ہزار کارکن بھیجے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کو جون 2025 میں ختم ہونے والے گذشتہ مالی سال کے دوران جی سی سی خطے سے ترسیلات زر کی مد میں 21 ارب 65 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جو ملک کی کل عالمی ترسیلات زر 38 ارب 30 کروڑ ڈالر کا 56 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔
عرب نیوز کی جانب سے رابطہ کرنے پر پاکستان کی وزارت سمندر پار پاکستانیز کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ یورپ جانے والے کارکنوں کے لیے سافٹ سکلز سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔
لیکن خلیج جانے والے کارکنوں کے لیے ابھی تک ایسا کوئی تربیتی پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا ہے۔
اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کیوں کہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، ’وزارت مستقبل میں ریکروٹرز کے تعاون سے جی سی سی ممالک کے لیے اس طرح کی تربیت متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔‘
ایک زیر تربیت کارکن عثمان علی نے بتایا کہ وہ خلیجی ملک جا رہے ہیں اور انہوں نے ایک ‘مفید’ تربیتی سیشن کے انعقاد پر جان محمد اینڈ سنز کی تعریف کی۔
عثمان علی نے کہا کہ ’میں اپنے خاندان کے لیے بیرون ملک جا رہا ہوں۔ انشااللہ، میں بیرون ملک اپنا نام بناؤں گا اور پاکستان کا نام بھی روشن کروں گا۔‘




