World

چین: آتشبازی کے کارخانے میں دھماکہ، 21 اموات


چین کے سرکاری میڈیا نے منگل کو بتایا ہے کہ ملک کے وسطی صوبے میں پٹاخوں کی ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 21 افراد جان سے چلے گئے اور 61 زخمی ہو گئے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق دھماکہ پیر کی دوپہر صوبہ ہنان کے شہر چانگشا میں پٹاخوں کی ایک فیکٹری میں ہوا۔ 

سرکاری چائنا ڈیلی نے بتایا کہ یہ فیکٹری چانگشا کے زیر انتظام کاؤنٹی سطح کے شہر لیویانگ میں واقع تھی جسے ہواشینگ فائر ورکس مینوفیکچرنگ اینڈ ڈسپلے کمپنی چلا رہی تھی۔ لیویانگ پٹاخہ سازی کا ایک بڑا اور مشہور مرکز ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی فضائی فوٹیج میں منگل کو دکھایا گیا کہ جائے وقوعہ کے کچھ حصوں سے اب بھی سفید دھواں اٹھ رہا ہے اور تنصیبات منہدم یا تباہ ہو چکی ہیں۔

شنہوا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائے وقوعہ پر تقریباً 500 امدادی کارکن بھیجے گئے اور دھماکے کی جگہ کے قریب موجود کالے بارود کے دو گوداموں سے شدید خطرات کے پیش نظر حکام نے خطرے کی زد میں آنے والے رہائشیوں کو وہاں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

حکام دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور پولیس نے کمپنی کے انچارج کو حراست میں لے لیا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کرنے پر زور دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر واقعے کی وجوہات کی تحقیقات کریں اور سخت احتساب کو یقینی بنائیں۔ شی جن پنگ نے اہم صنعتوں میں خطرات کی موثر جانچ پڑتال، ان پر قابو پانے اور عوامی تحفظ کے انتظامی امور کو مزید بہتر کرنے کا بھی حکم دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امدادی کارروائیوں کے دوران دیگر حادثات سے بچنے کے لیے، امدادی کارکنوں نے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے کی غرض سے پانی چھڑکنے اور نمی کا تناسب بڑھانے جیسے اقدامات کیے۔

انہوں نے تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے تین روبوٹ بھی استعمال کیے۔

لیویانگ میں پٹاخے بنانے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ادارے نے بتایا کہ پہلی بار مستند حوالوں سے تصدیق شدہ پٹاخہ یعنی چینی پٹاخہ ایجاد کرنے کا سہرا لی تیان نامی ایک راہب کے سر ہے، جو 618 سے 907 عیسوی کے لگ بھگ چین کے تانگ خاندان کے دور میں لیویانگ کے قریب رہتا تھا۔ 

گنیز کے مطابق لی نے یہ دریافت کیا تھا کہ کھوکھلے بانس کو بند کر کے اس میں بارود بھرنے سے زور دار دھماکے ہوتے ہیں، اور اس نے بدروحوں کو بھگانے کے لیے پٹاخوں کو آپس میں باندھ کر نئے سال کے روایتی پٹاخے بنائے۔

فروری میں چین نے قمری نئے سال کے موقع پر پٹاخوں کی دکانوں میں دو مہلک دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔





Related Articles

Leave a Reply

Back to top button