
لاہور کو باغات کا شہر کہا جاتا ہے۔ مغلوں کو باغبانی کا شوق حد سے زیاد تھا۔ شہر کے بیچوں بیچ باغ، کنارے پر باغ، گھاٹ پر باغ، حاشیے میں باغ، حوض میں باغ، باغ فی الباغ۔ جہاں نگری کم پڑی، صفحوں میں باغ کھلا دیے۔ باغوں کی روش کو اگر کوئی ڈھنگ سے سمجھا تو ہمارے کلاسیکی شاعر:
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
(میر)
انگریزوں کے آنے سے باغبانی کے عمل میں اصولی تبدیلی آئی۔ اب انہیں مفاد عامہ کی آزادی و رعنائی کے علاوہ علمی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ پھولوں کے تختے، پیڑوں کے قطعے، بوٹوں کے حاشیے سب میں تحقیق کا پانی لہریں مارنے لگا۔ ان باغوں کو نباتاتی باغات (Botanical Gardens) کہا جاتا تھا۔ برطانوی تَر دماغوں نے نباتاتی باغ کی پہلی بنیاد 1621 میں آکسفرڈ میں رکھی۔
برصغیر میں انگریزوں نے پہلا نباتاتی باغ کولکتہ (شبپُر) میں بنوایا۔ یہ 1787 کی بات ہے۔ اس باغ کا نام رائل بوٹینک گارڈن تھا۔ بعد ازاں اسے آچاریا جگدیش چندرا بوس گارڈن کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد نباتاتی باغات کی راہ ہموار ہو گئی۔ ہر راجیہ کے بڑے شہر میں نباتاتی باغ بنوائے گے۔
شمالی ہند کے پرانے باغات میں لاہور کے نباتاتی باغ بھی اہم ہیں۔ انگریزوں نے لاہور میں اگرچہ کئی نباتاتی باغ بنوائے (جلو کا نباتاتی باغ، ماڈل ٹاؤن باغ)، لیکن سب سے پہلا نباتاتی باغ 1912 میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل پروفیسر اے ایچ ہیمی (پروفیسر، شعبۂ کیمیا اور طبیعیات دونوں کا چارج رہا) اور معروف ماہر حیاتیات لالہ شِیو رام کیشپ کے ایما پر بنایا گیا۔
ابتداً باغ کا رقبہ بارہ ایکڑ تھا، جو گھٹتے گھٹتے سات ایکڑ رہ گیا۔ کالج کی تاریخ (گریٹ کی تاریخ) میں اس باغ کے قیام کی تاریخ 1912 ملتی ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ 1860 میں جب مال روڈ کے دائیں ہاتھ واقع اُجاڑ اور قدرے مرتفع جگہ کو خرید کر لارنس گارڈن میں تبدیل کیا گیا، اسی باغ کے جنوبی حصے کو ایک باڑ کے ذریعے سے الگ کر، نباتاتی تحقیق کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
جنوبی بعد میں واقع اس بوٹینکل گارڈن کی زمین بابا شاہ عنایت (1643 تا 1728) سے منسوب کی جاتی ہے۔ بابا شاہ عنایت کا مزار بھی نباتاتی باغ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حاصل بحث کے طور پر کہا جا سکتا ہے، جی سی کا بوٹینیکل گارڈن عملاً 1860 سے موجود تھا البتہ اسے گورنمنٹ کالج کی تحویل میں 1912 کو دیا گیا۔ یہ بات قرین قیاس بھی ہے۔ 1883 کے لاہور گزیٹیئرز میں لارنس گارڈن کی اسی جنوبی سمت کی ذیل میں کچھ ایسے درختوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو خالص تحقیق کے مقصد کے لیے اُگائے گئے تھے:
’ہندوستان کے مقامی درختوں کے ساتھ ساتھ باغ میں آسٹریلیا، سری لنکا اور جنوبی یورپ کے درختوں کو اُگانے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔‘
(گزیٹیئرز، 1883-84)
نباتاتی باغ میں آج بھی بدیسی درختوں (پھل دار اور غیر پھل دار درختوں) کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جدید سائنسی منہاج کو استعمال کر کے ان درختوں کی عمر کا تعین کیا سکتا ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے 1860 میں لارنس گارڈن (اور نباتاتی باغ) کے لیے روزانہ کی بنیاد پانی کیوں کر مہیا کیا جاتا ہو گا۔ ان دنوں لاہور کی زمین ماحولیاتی اثرات کے نتیجے میں سخت تھی۔ موسم کی شدت کے باعث غیر مقامی درختوں کو اُگانا کارِ دشوار رہا ہو گا۔
اس ضمن میں گزیٹیئر کے معلومات اہم ہیں:
’باغ کو لاہور کی معروف نہر باری دو آب کا ایک شاخ کاٹ کر سیراب کیا جاتا ہے۔‘ (1883)
ویران کے الفاظ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حصہ مطلقاً بنجر تھا۔ 1886 کی ہندوستانی زرعی رپورٹ (Indian Agricultural Report) کے مطابق، لارنس گارڈن میں 80000 درخت تھے، جو 600 انواع و اقسام کے تھے۔ یہ تعداد غیر معمولی ہے۔ اس سے لاہور کے نباتیہ و جغرافیہ کو سمجھنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔
لارنس گارڈن ان دنوں، شہر سے کافی دور خیال کیا جاتا تھا۔ اس ضمن میں گزیٹیئر میں دل چسپ معلومات ملتے ہیں۔ 1880 میں جب لاہور میوزیم کو ایگزیبیشن روڈ (ٹولنٹن مارکیٹ کے سامنے مال روڈ کا ٹکڑا) سے لارنس ہالز (لارنس گارڈن) میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو اس کی بے حد مخالفت کی گئی۔ دیگر کئی وجوہات کے علاوہ ہر بار اس دلیل کا ارادہ کیا گیا: یہ حصہ شہر سے اس قدر باہر ہے کہ عام شہری کسی صورت وہاں جانے اور نوادرات کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کرے گا۔ آج کے جغرافیے اور فاصلوں کی میل دیکھتے ہوئے اس بات پر تعجب ہوتا ہے۔
ڈاکٹر چندرا سیال نے (جو 1947 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تیسرے سال کی طالبہ تھیں اور بعد ازاں لندن میں دل کی معروف سرجن کے طور پر مقیم رہیں) لارنس گارڈن کے کنارے کھجوروں کے جھنڈ کا ذکر بھی کیا ہے۔ کچھ ایسا ہی بات لندن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل رینوکا چٹر جی کھنہ نے بھی لکھی ہے۔ (رینوکا 1927 میں لاہور میں پیدا ہوئیں اور موجودہ گورنمنٹ کالج لاہور کے سامنے واقع موجودہ سائنس بلاک کے مقام پر رہائش پذیر رہیں۔ رینوکا کی دو اقساط پر مشتمل یادیں نہایت اہم ہیں۔)
1893کے (یعنی دس برس بعد) گزیٹیئر میں اس بات کا اضافہ کیا گیا ہے کہ نباتاتی باغ کا اہم حصہ گندم اور دیگر اجناس کی نئی انواع کی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی مرقوم ہے، اس حصے کا انتظام و انصرام باٹنی کے پروفیسر کے سپرد ہے۔ اگرچہ تحریر نہیں کیا گیا لیکن قیاس کہتا ہے، باٹنی کے منتظم پروفیسر کا علاقہ گورنمنٹ کالج سے ہو گا۔ پروفیسر کشپ کا تعلق جہلم کے برہمن خاندان سے تھا۔ جی سی سے منسلک ہونے کے بعد وہ 1910 میں بغرض تعلیم کیمبرج تشریف لے گئے تھے۔ 1912 میں وہ این ایس ٹی (The National Sciences Tripos) کی ڈگری حاصل کر کے بطور پروفیسر نباتیات، ہندوستان واپس پہنچے تھے۔ 1912 ہی میں نباتاتی باغ کا انتظام ان کے سپرد کیا گیا۔
گورنمنٹ کالج لاہور کے موجودہ نباتاتی باغ میں پھلوں کے کئی پیڑ موجود ہیں۔ ان میں آم، کینو، مالٹا، رام پھل, سیتا پھل، کٹھل اور بیروں کی کئی اقسام شامل ہیں۔ علی الخصوص کٹھل اور آم کے پیڑ پرانے اور لمبے چوڑے سایوں والے ہیں۔
1893ء ہی کے گزیٹیئر میں لارنس گارڈن کے مغربی جانب بنائے جانے والے ہاٹ ہاؤس (Hot House) کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ ہاٹ ہاؤس آج بھی موجود ہے، جس میں دیگر حسّاس پھول بوٹوں کے علاوہ پان کی پنیری بھی لگائی گئی ہے۔
ڈھیلے ڈھالے لفظوں میں سمجھنے کے لیے، ہاٹ ہاؤس، گرین ہاؤس کے لیے مستعمل پرانی اصطلاح ہے۔ غور کیجیے 1880 کی دہائی میں لاہور میں گرین ہاؤس کا قیام کس قدر نئی چیز رہی ہو گی!
پروفیسر ڈاکٹر امین اللہ خان نے Guide to Botanical Garden GC University Lahore میں لکھا ہے، تقسیم سے پہلے جی سی کا نباتاتی باغ خالص تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس کی صفائی اور انتظام محاورہ تھی۔ باغ میں داخلے کے لیے کالج سے جاری کردہ اجازت نامے کی حاجت تھی۔
پروفیسر نے یہ بھی لکھا ہے کہ تقسیم سے پہلے باغ کی کیفیت و کمیت کے بارے میں ملنے والے معلومات النادر کالعدوم ہیں۔ خوشونت سنگھ نے اپنی تحریروں میں لارنس گارڈن سے منسلک نباتاتی باغ کا ذکر کیا ہے۔ جن دنوں وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے ہاسٹل کی سکونت ترک کرنے کے بعد، اپنے ایک دوست کے ہمراہ لارنس گارڈن کے عقب میں واقع بنگلے میں منتقل ہوئے تھے، نباتاتی باغ ان کی خاص توجہ کا مرکز رہا۔ یہ باغ خوشونت سنگھ کو رابندر ناتھ ٹیگور کے معروف تربیتی ادارے شانتی نیتن کی یاد دلاتا تھا۔
حال ہی میں ڈاکٹر اسما قادری کو دیے جانے والے انٹرویو میں ڈاکٹر سَتوندر بینس نے اپنی والدہ کے قیام لاہور (1939) کے آغاز کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر صاحبہ کے مطابق ’میری والدہ شام کے وقت سفید بوسکی کی شلوار زیب تن کیے، لاہور بوٹینیکل گارڈن میں ٹہلنے جایا کرتی تھیں۔ ان دنوں بوٹینیکل گارڈن کی روشوں کا فرش سینڈ سٹون کا ہوتا تھا۔ سفید بوسکی کی شلوار پر فرش کی اینٹوں کا رنگ چڑھ جاتا۔ والدہ شلوار کے پائنچوں کو روز رگڑ رگڑ کے دھوتیں لیکن چہل قدمی کرنا نہ چھوڑتیں۔ بوٹینیکل گارڈن کی روشوں پر چلنے سے بہترین شغل کوئی نہ تھا۔‘
سَتوندر بینس نے صریحاً بوٹینکل گارڈن کے الفاظ استعمال کیا ہے۔ یہاں اسے لارنس گارڈن کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔ عوام میں اسے بوٹینکل گارڈن کی بجائے لارنس گارڈن ہی کہا جاتا تھا۔ غلام عباس کے معروف افسانے ’اوور کوٹ‘ میں جگہ جگہ یہی نام درج ہے۔ ظاہر ہے فکشن میں معروف نام کی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
روچی رام ساہنی نے اپنی یادوں میں (Memoirs of Ruchi Ram Sahni) بھی نباتاتی باغ کا ذکر کیا ہے۔ 1918 میں جی سی لاہور سے سبک دوشی کے بعد ان کے پبلک لیکچروں میں تیزی آ گئی۔ ایک سائینسی لیکچر نباتاتی باغ کے سامنے بھی دیا گیا۔ ان دنوں باغات کو عوامی لیکچر کی عمدہ جگہیں خیال کیا جاتا تھا۔ مثال کے دور پر، ہندو سبھا اور آریہ سماج کے کئی علمی اجلاس لارنس گارڈن میں ہوتے تھے۔
انارکلی تھانے سے متصل رسالہ بازار میں پیدا ہونے والے معروف لیکھک اور موسیقی کے نقاد، ستیش چوپڑا نے راقم سے بات کرتے ہوئے، نباتاتی باغ کی شہرت و خوب صورتی کا ذکر کیا ہے۔ ستیش چوپڑا کے مطابق نباتاتی باغ اور لارنس گارڈن خاص طور پر سول سٹیشن کے انگریزوں کی سیر گاہ تھا۔ مختلف ریاستوں کے نواب اور رؤسا جب لاہور آتے تو اس باغ میں ضرور جاتے۔ اس بات کا ذکر لاہور گائیڈ (1909) میں بھی ملتا ہے۔
شاہد حمید نے اپنی سوانح عمری ’گئے دن کی مسافت‘ میں لکھا ہے، 46-47 میں مال روڈ کا یہ حصہ خاصا آباد ہو چکا تھا۔ مال کے فٹ پاتھ اس قدر چوڑے تھے کہ دو طرفہ سائیکل چلاتی لڑکیاں توجہ کا مرکز رہتیں۔ یہ فٹ پاتھ ہوا خوری کرنے کے لیے محاورہ ہو چلے تھے۔
موجودہ حالت میں نباتاتی باغ ایک مستطیل شکل میں مال روڈ کے متوازی چلتا ہے۔ باغ کے شمال میں مال روڈ جب کہ جنوب میں اور مشرق میں لارنس گارڈن ہے۔ مغرب میں زولوجیکل گارڈن یا چڑیا گھر واقع ہے۔ ابتدا میں چڑیا گھر کا نصف حصہ بھی باغ میں واقع تھا، جو بعد ازاں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
ان دنوں نباتاتی باغ کے جنوب مشرق میں لارنس گارڈن کی طرف کا علاقہ خالی اور کشادہ تھا لیکن آزادی کے بعد اس منطقے میں باغ جناح (لارنس گارڈن) کے ملازمین کے مکانات نے نباتاتی باغ کی روشنی دبا لی۔ موجودہ حالت میں نباتاتی باغ کے دو دروازے ہیں۔ ایک جنوب میں مال روڈ پر کھلتا ہے۔ لوہے کے اس سلاخ دار دروازے کے اوپر بوٹینکل گارڈن جی سی لکھا ہے۔ دوسرا دروازہ بابا شاہ عنایت کے مزار کی جانب ہے۔ اس دروازے کا موجودہ نام خالد آفتاب گیٹ ہے۔
مال والے دروازے سے ایک ڈھلوان باغ میں اترتی ہے۔ ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں تو باغ کے وسطی حصے میں، ملازمین کے کواٹر موجود ہیں، کواٹروں کے آگے چھتہ موجود ہے۔ دروازے سے بائیں جانب وسیع منطقوں کے علاوہ دو دیدہ زیب تالاب موجود ہیں۔
تالابوں میں ہنس اور بطخوں کے مجسمے، کائی زدہ پانی، سبز جالے اور کچا کچا سبزہ، مل کر غیر مرئی اور مرموز ماحول پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی کیکٹس فیملی کے جنگلے ہیں، جن کے لمبے لمبے کانٹے خشکی کے ماحول اور جہد للبقا کے لیے انسانی تاریخ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
باغ کے مشرق میں زیادہ تر پھولوں کی جھاڑیاں ہیں۔ مغرب میں پھل دار درختوں کے لاتعداد منطقے ہیں۔ جن میں دیسی و بدیسی ہر طرح کے پھل موجود ہیں۔ یہ حصہ مشرقی حصے سے تین گنا ہے اور محیط میں گول ہے۔ اسی حصے میں تحقیقی ہال اور گرین ہاؤس بھی واقع ہیں۔ گرین ہاؤس کے اندر پانی کی پنیری بھی موجود ہے۔
لاہور میں پان کی پنیری ہونا آپ تیئں نادر بات ہے۔ باغ کے مغربی کنارے میں پائنز فیملی کے درختوں کے علاوہ جنکگو بائلوبا کے دو صحت مند درخت موجود ہیں۔
جنکگو بائیلوبا (Ginkgo biloba) جسے میڈن ہیئر ٹری بھی کہا جاتا ہے، مشرقی ایشیا میں پائے جانے والے پرانے ترین اور نایاب درختوں میں شامل ہے۔ جِنکگو اس گروہ کی آخری زندہ بچ جانے والی قسم ہے، جو تقریباً 29 کروڑ سال پہلے وجود میں آئی تھے۔ اس کے سنگوارے (فوسلز) تقریباً 17 کروڑ سال پرانے دور سے ملتے ہیں۔ یہ درخت دماغی اور اعصابی مسائل کا مسکت علاج سمجھا جاتا ہے۔
نباتاتی باغ کی روشوں یا Tracks کو ماہرین نباتیات و حیوانات کے نام دیے گئے ہیں۔
لینیئس کی مرکزی روشیں ( Linnaeus Main Walks)، معروف ماہر حیاتیات کارل لینیئس کے نام سے معروف ہے۔ لینیئس وہی معروف سویڈش ماہر حیاتیات ہے، جس نے نامیاتی زندگی کو سائنسی نام دینے کا عالمی نظام ایجاد کیا اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کتاب Genera Plantarum لکھی۔ لینیئس کا معروف قول ہے: سائنس کائنات کے حسن کے توازن کو دریافت اور برقرار کرنے کا نام ہے۔
ہوکر کی بیرونی مدوّر روش،Hooker Outer Circular Walkجے ڈی ہوکر کے نام سے منسوب ہے۔ سر جوزف ڈالٹن ہوکر (30 جون 1817ء – 10 دسمبر 1911ء) انیسویں صدی کا معروف برطانوی ماہرِ نباتات اور سیاح تھا۔ ہوکر نے جغرافیائی نباتات کو ایک مضمون کے طور پر متعارف کروایا۔ وہ چارلس ڈارون کے سب سے قریبی دوست تھا۔ دیگر کارناموں کے علاوہ ہوکر کا اہم کام ہندوستان کے جغرافیائی اسفار ہیں، جو بعد ازاں لا تعداد تحریروں کے محرک بنے۔ ان میں Flora of British India سر فہرست ہے۔
پارکر کی اندرونی مدوّر روش، Parker Inner Circular Walk، آر این پارکر لیے نام سے منسوب ہے۔ پارکر بیسویں صدی کے نصف اول کا معروف ماہر نباتیات ہے۔ پارکر نے 1925 میں دہرہ دون (شمالی بھارت) کے فارسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ ایک بوٹینک گارڈن قائم کیا۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں، جن میں ‘A Forest Flora of the Punjab’ (1918) اور ‘Forty Common Indian Trees’ (1933) عالمی شہرت یافتہ ہیں۔
سٹیورٹ کی روش، Stewart Walk، امریکی ماہر حیاتیات ڈاکٹر رالف رینڈلز سٹیورٹ کے نام سے منسوب ہے، جنھوں نے اپنی زندگی کا تقریباً سارا حصہ ہندوستان اور بعد ازاں پاکستان کے نباتیہ کی تحقیق میں صرف کیا۔ وہ گارڈن کالج راولپنڈی کے پرنسپل بھی رہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی نباتیہ پر ان کی تحقیق حرف سند سمجھی جاتی ہے۔ An Annotated Catalogue of the Vascular Plants of West Pakistan in: Flora of Pakistan” (1972) ان کی معروف کتاب ہے۔
کیشیپ کی روش، Kayshyap Walk، جی سی کے معروف استاد، شیو رام کیشیپ کے نام سے منسوب ہے۔ جی سی کے نباتاتی باغ کی سکتا انھی کے سر ہے۔ انھیں کیمبرج اور آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ Flora of Lahore District ان کی مشہور کتاب ہے۔
نباتاتی کے وسط میں لوکا گھینی مرکز، Luca Ghini Central Point ہے، جو دور وسطی کے اٹلی کے عظیم سائنس دان اور ماہر نباتیات لوکا گھینی کے نام سے منسوب ہے۔ لوکا گھینی نے 1543ء میں پیسا، اٹلی میں پہلا بوٹینیکل گارڈن قائم کیا۔
لاہور میں واقع اس اہم تاریخی ورثے کی حفاظت میں گورنمنٹ کالج لاہور (موجودہ یونیورسٹی) کے منتظمین اور محققین کا اہم کردار ہے۔ ان ہی کے خونِ جگر سے باغ آج بھی پوری آب و تاب سے موجود ہے۔ حکومتی سرپرستی و دل چسپی اس کی شادابی کو عطر بیز اور خواب آگیں بنا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ارسلان راٹھور، تاریخی محقق، شاعر اور ادیب ہیں۔ وہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں۔



