اسماعیلی کمیونٹی کی روحانی پیشوا ہزہائی نس پرنس رحیم آغاخان کی متوقع دورہ کے حوالے سے سنی کمیونٹی کی دعوت پر مستوج میں اجلاس، مہمانوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش
۔
مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز) امجد لال ہاؤس موژودور مستوج میں سنی کمیونٹی کی دعوت پر اسماعیلی کونسل مستوج کے صدر، کابینہ اراکین اور عمائدین علاقہ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت پریذیڈنٹ لوکل کونسل مستوج نے کی۔ اجلاس میں اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا، پرنس رحیم آغاخان کی متوقع اپر چترال آمد کے سلسلے میں مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں سنی کمیونٹی کے سربراہان، علمائے کرام اور معززین نے امامت کے اداروں کی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کے شعبوں میں خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ پرنس رحیم آغاخان چترال کے معزز مہمان ہیں اور ان کی میزبانی میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سنی کمیونٹی کو جو بھی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، انہیں خوش اسلوبی اور بھرپور جذبے کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔
علمائے کرام نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپر چترال میں سنی اور اسماعیلی برادری صدیوں سے بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، اور اس مثالی اتحاد کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے چترال کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم دونوں کمیونٹیز کے ذمہ داران ایسے عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مستوج دیدار گاہ کے قریب ترین علاقوں میں شامل ہے، جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے مہمانوں کی رہائش کا انتظام مستوج سے کارگین تک مختلف مقامات پر کیا جائے گا۔ اس موقع پر سنی کمیونٹی کے نمائندوں نے پیشکش کی کہ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بھی ٹھہرایا جائے گا۔
امجد لال نے اپنی جانب سے مہمانوں کی سہولت کے لیے اپنا گیسٹ ہاؤس اور گاڑی کی چابیاں فوری طور پر صدر لوکل کونسل مستوج کے حوالے کرنے کی پیشکش بھی کی، جسے حاضرین نے جذبۂ اخوت اور مہمان نوازی کی بہترین مثال قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر اسماعیلی کمیونٹی کے نمائندوں نے سنی کمیونٹی، علمائے کرام اور معززین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ صدر اسماعیلی کونسل مستوج نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات چترال کے تاریخی بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
