World

ایران کی نئی تجویز پر غور کروں گا، لیکن لگتا ہے وہ قابل قبول نہیں ہو گی: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایران کی جانب سے دی گئی تازہ ترین امن تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس کے قابل قبول ہونے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ٹرتھ سوشل پر لکھا ’میں جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لینے والا ہوں جو ایران نے ہمیں بھیجا ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ قابل قبول ہو گا کیونکہ انہوں نے گذشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا اس کی مناسب قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔‘ اے ایف پی


جنگ یا امن کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں: ایران

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا چاہتا ہے یا کھلی جنگ کی طرف واپس جانا چاہتا ہے اور یہ کہ تہران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔

 

سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کی راہ اختیار کرتا ہے یا تصادم کے انداز کو جاری رکھتا ہے۔‘

 

انہوں نے مزید کہا ’ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔‘


چین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کر دیا

چین نے کہا ہے کہ وہ ان پانچ کمپنیوں پر امریکی بین کی پابندی نہیں کرے گا جنہیں ایرانی تیل خریدنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

ایرانی تیل کے ایک بڑے خریدار چین نے کہا کہ امریکی پابندیاں ان کمپنیوں کے معمول کے کاروبار کو ’غلط طور پر روکنے یا محدود کرنے‘ کے مترادف ہیں۔ اے ایف پی


امریکہ کے ساتھ دوبارہ تصادم کا امکان: ایرانی فوج 

ایران کے ایک سینیئر فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئی لڑائی ’ممکن‘ ہے کیونکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز پر تنقید کی ہے۔

 

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کے محمد جعفر اسدی نے کہا ’ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان ہے اور شواہد بتاتے ہیں کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں۔‘


امریکہ قطر کو چار ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل دے گا

امریکہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے خلیجی اتحادی قطر کو چار ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسرائیل کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

 

امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بھیجی گئی اطلاعات میں کہا کہ دونوں سودے امریکہ کی ’خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی‘ کے مقاصد کے مطابق ہیں۔





Related Articles

Leave a Reply

Back to top button